Tuesday, July 7, 2020  | 15 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > فیشن ، لائف اسٹائل

کوئٹہ کی خصوصی سوغات، کھجوروالے نان اورہزارہ ٹاؤن کا آش

SAMAA | - Posted: Jun 2, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 2, 2020 | Last Updated: 1 month ago

کوئٹہ کے دو خاص راز کھجور کے نان اور آش ہیں جو حقیقاً شہر کے تاریخی ورثے کا حصہ ہیں۔

ان دونوں سوغاتوں کی تراکیب جاننے کیلئے کوئٹہ جانا بالکل ایسا ہی تھا جیسے واپس بچپن کے دنوں میں اپنے آبائی ورثے کی طرف جانا۔ اس شہر کا قدیم نام شالکوٹ تھا، پشتو میں کوٹ کے معنی قلعہ کے ہیں۔ جب میں آخری بار یہاں آئی تھی اس میں کافی تبدیلی آچکی ہے، پیدل چلنے والوں کی جگہ ٹریفک کی روانی نے لے لی۔ میں نے سینٹ فرانسس گرامر اسکول اور سینڈ جوزف کونوینٹ سے تعلیم حاصل کی۔ یہاں مینو مارکر کی رہائش ہے۔ پہلے کوئٹہ میں 21 پارسی خاندان رہا کرتے تھے تاہم اب یہاں صرف 4 افراد رہ گئے ہیں۔

اگر آپ کوئٹہ جاتے ہیں تو آپ کو خاص طور پر تھانہ روڈ سے خشک میوہ جات خریدنے چاہئیں، جہاں ژوب، زیارت، قلعہ سیف اللہ اور پشین کی خاص پیداوار فروخت ہوتی ہیں۔ پرائس روڈ پر گرین ہوٹل جائیں، لال کباب کے ساتھ ہی ایک کپ چائے یا ان کے فیملی رومز میں کچھ کھانے کو لیں۔ اگر آپ کنٹونمنٹ میں جائیں تو وہاں کافی پرانے چائنا کیفے سے گزریں گے، وہاں میں نے کچھ کھایا تھا۔

کھجور کے نان کی ترکیب ڈھونڈنے کے راستے میں، میں نے کچھ وقت امپیریل بیکری میں گزار جو اس شہر کی سب سے قدیم بیکری ہے۔ اس کی بنیاد عزیز الدین صاحب کے خاندان نے 1923ء میں رکھی، اس کی وجہ شہرت یہاں کی خاص بریڈ ہے۔ یہ کئی نسلوں سے قاضیوں، میرے اہل خانہ کو کھانا کھلا رہے ہیں۔ ان کا ایک اور مشہور آئٹم مستونگ کیک ہے، تاہم اس پر الگ سے ویڈیو کریں گے۔

نان پراٹھا شاپ پر میں نے محمد شریف سے پوچھا کہ وہ کس طرح انوکھا کھجور والا نان بناتے ہیں۔ جس پر انہوں نے مجھے نان بنا کر دکھایا۔

وہ گندم کے آٹے کو گوندھتے اور اس میں خمیر ملاتے ہیں، ساتھ ہی کھانے کا سوڈا اور نمک شامل کرتے ہیں، جسے ایک گھنٹے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ مٹھی بھر کر اس کا پیڑھا بناتا ہے، جسے دار چینی کے روک کی طرح لپیٹ دیتا ہے، اور اس پر برش سے گھی یا تیل لگاتا ہے۔

اس رول کو بعد میں بیل کر روٹی کی شکل دی جاتی ہے جس پر کھجور کا پانی یا شربت ڈالا جاتا ہے۔ پھر شریف ٹپہ (اسٹامپ) کے ذریعے اس پر سوراخ کرتا ہے۔ اس کے بعد روٹی کو نان پیڈ پر پھیلا کر اسے تندور میں لگادیا جاتا ہے۔

میری اگلی منزل ہزارہ ٹاؤن کا علمدار روڈ تھا، جس کا نام اہل تشیع روایات کے باعث علم کے نام پر رکھا گیا۔ یہاں ایک پنجتن ہوٹل ہے جہاں محمد علی نے ہمیں ہزارہ کی خاص سوغات آش بنانے کا طریقہ بتایا۔

آش تقریباً پاستے کی طرح گندم کی پٹیوں سے بنایا جاتا ہے، جسے بیک کیا جاتا ہے۔ آپ اسے خرید کر گھر لے جاسکتے ہیں۔ آش بنانے کیلئے اسے پودینے کے ساتھ (بغیر نمک کے) ابالیں۔ اس میں سرخ یا سفید لوبیا کے بیج، مرچ، زیرہ اور دھنیا پاؤڈر کے ساتھ قیمہ بھی شامل کرسکتے ہیں۔

اس میں شامل خاص جز قروت یا سخت دہی کی گیندیں ہیں، جنہیں نم اور نرم کرنے کیلئے پوری رات گرم پانی میں چھوڑا جاتا ہے، یہ سب چیزیں تہہ در تہہ لگائی جاتی ہیں۔

اگر آپ اس کے قریب ہیں تو میں فرانسیسی کھانوں کی بیکری میں جانے کی تجویز دوں گی، جس کے مالک محمد طاہر نے مجھے ہزارہ اسنیک بوسراخ سے متعلق بتایا، جو خوبصورت اشکال میں تلی ہوئی بریڈ ہوتی ہیں۔ آپ ٹکی یا شاندار اخروٹ کے بسکٹ بھی ٹرائی کرسکتے ہیں۔

آپ نیلوفر کو فالو اور ان کا یوٹیوب چینل بھی سبکرائب کرسکتے ہیں:۔

Twitter @ninoqazi
Insta : niloferscorner
YouTube: niloferscorner

نیلوفر آفریدی قاضی کا تعلق پشین بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے گاؤں بابری بانڈہ سے ہے۔  وہ پاکستان سے باہر 13 ممالک میں رہیں جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ کام بھی کیا۔ انہوں نے اپنے پراجیکٹ پاکستان آن اے پلیٹ کو عملہ جامہ پہنانے کیلئے تین سال قبل نیویارک فلم اسکول میں داخلہ لیا تھا۔

بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (بی آر ایس پی) کی زینب کاکڑ، نادر گل اور انور صاحب کا خصوصی شکریہ، جنہوں نے فلم کے ایک حصے کیلئے وسائل اور بھرپور تعاون فراہم کیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
PAKISTAN, BALOCHISTAN, QUETTA, FOOD, DATE NAAN, AASH, HAZARA, VLOG,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube