Saturday, July 11, 2020  | 19 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

پاکستان میں ٹڈی دل کو چکن فیڈ بنانے کا منصوبہ

SAMAA | - Posted: Jun 2, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 2, 2020 | Last Updated: 1 month ago

Bags of locusts collected in Okara. Photo/Muhammad Khurshid

پاکستانی سائنسدانوں نے کامیابی سے ٹڈی دل کے حملے کا بہترین اور سادہ حل تلاش کرلیا ہے جس کے ذریعے ٹڈی دل کو ہائی پروٹین چکن فیڈ بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں ایک پائلٹ پروجیکٹ اس مسئلے سے نمٹنے کا سادہ حل پیش حل کرتا ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کے زہریلی کیڑے مار دوا کا استعمال نہیں کیا جاتا جو انسانوں اور دیگر جانداروں سمیت ماحول کے لئے بہت خطرناک ہے۔

پاکستانی کے مشرقی صوبے سب سے پہلے سرما میں اس حملے کا شکار ہوئے۔ تازہ حملہ ایک نیا آغاز ہے جو کہ توقع ہے کہ موسم گرما کے وسط تک مذید بڑھے گا۔ اس سے نمٹنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان کی پاکستانی حکومت نے منظوری دی ہے جس کے تحت تین لاکھ لیٹر کیڑے مار اسپرے کیا جارہا ہے۔

ٹڈی دل سندھ کے بعد پنجاب کے علاقوں پر حملہ آور ہے جہاں گندم سمیت کئی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ یہ پچھلے پچیس سالوں میں ہونے والا شدید ترین حملہ ہے اور پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا بھی اسکی لپیٹ میں ہے۔

واضح رہے کہ ماحولیات تبدیلی نے ہی ٹڈی دل کے حملے میں اہم کردار کیا ہے۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب پچھلے برس ایک غیر معمولی سائیکلون کے نتیجے میں ہونے والی بارش نمی پیدا کرنے کا باعث بنی جس کو عموماً سعودی عرب کے صحرا کا خشک سہ ماہی جانا جاتا تھا۔ اس نمی کے نتیجے میں ٹڈی دل کی بہت بڑی تعداد پیدا ہوئی اور تب سے ان کی پیدائش مسلسل جاری ہے۔

یہ جھنڈ ایران کے راستے موسمی ہواؤں کے ساتھ پاکستان میں داخل ہوئے۔ پاکستان کے مشرقی صحرائی علاقوں میں آنے کے بعد ان کی تعداد بڑھی اور سرما کے آخر میں پاکستان کے کئی علاقوں میں داخل ہوئی اور اب انڈیا میں بھی داخل ہوچکی ہے۔ جے پور انڈیا کے آسمان پر ان کی اتنی بڑی تعداد میں آسمان پر نظر آئی جیسے فضا پر ایلین مخلوق نے قبضہ کرلیا ہو۔

فوری خطرہ

مئی کے اواخر سے جون، جولائی تک بہت بڑی تعداد میں ٹڈی دل کا حملہ متوقع ہے کرونا سے معاشی طور پر متاثر پاکستان کے لئے بہت مشکل وقت ہے جب ایک طرف ٹڈی دل فصلوں پر حملہ آور ہیں تو دوسری جانب چمگادڑ رات کو آموں پر حملہ آور ہیں اور کاشتکار کو سمجھ نہیں آرہا کہ وہ کہاں جائے۔

حکومت نے جو اسپرے کیا ہے وہ انسانوں میں کئی امراض کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کے لئے بھی زہر ہے۔ ایک جنگلی حیات کے ماہر سہیل احمد کے مطابق بدقسمتی سے اس وقت کوئی بھی ایسی دوا استعمال نہیں کی جارہی جو جانداروں کے لئے نقصاندہ نہیں۔

سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے صحراؤں کے نزدیکی علاقوں میں یہ اثرات پہلے ہی نوٹس کئے جارہے ہیں۔ فروٹ کے باغات میں پائے جانے والے توتے پہلے ہی ان کیمیکل کی نذر ہوچکے ہیں۔ ایک کاشتکار کے مطابق افسوسناک بات یہ ہے کہ ان اسپرے کی وجہ سے کوّے جو ٹڈی دل کو کھانے آتے تھے وہ بھی غائب ہوچکے ہیں۔

سادہ حل

اس بڑھتے ہوئے ٹڈی دل کے مسئلے کا سادہ حل تلاش کیا گیا ہے۔ پاکستان میں اوکاڑہ کے علاقے میں کسانوں کیلئے ٹڈی دل پکڑ کر بیچنا آمدنی کا زریعہ بنادیا گیا ہے۔ ٹڈی دل پکڑ کر ان سے چکن اور دوسرے جانوروں کے لئے ہائی پروٹین غذا تیار کی جارہی ہے۔

دو پاکستانی ماہرین نے اس کا یہ بہترین حل پیش کیا ہے۔ محمد خورشید جو منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ میں سول سرونٹ ہیں اور جوہر علی جو پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے بائیوٹیکنالوجسٹ ہیں انہوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کا بہترین حل پیش کیا ہے۔

جوہر علی کے مطابق انہیں ابتدائی طور پر یہ یقین نہیں تھا کہ ایسا ممکن ہے کہ ٹڈی دل کو لوگ پکڑ بھی سکتے ہیں۔ انہیں یہ آئیڈیا دو ہزار انیس میں یمن میں ٹڈی دل حملے کے بعد نمٹنے کی مثال سے آیا۔ جب یمن والوں کا موٹو تھا کہ ٹڈی دل کو کھالو اس سے پہلے کہ یہ تمہاری فصلیں کھائیں۔

‎اس تجربے کے لئے ڈسٹرکٹ اوکاڑہ جو کہ بہت زیادہ آبادی والا علاقہ ہے کا انتخاب کیا گیا۔ وہاں تین دن کا ایک ٹرائل پروجیکٹ پپلی پہاڑ جنگلات دیپال پور میں کیا گیا جہاں فروری کے وسط میں لاتعداد بڑے ٹڈی دل کے جھنڈ رپورٹ کئے گئے تھے۔ ان جنگلات کو اسلئے بھی چنا گیا کہ وہاں کیڑے مار ادویات کے اثرات ہونے کے چانسز کم تھے۔

پاپولر آئیڈیا

ٹڈی دل کو پکڑیں۔ پیسے کمائیں- فصلیں بچائیں کے سلوگن کے ساتھ یہ پروجیکٹ کسانوں کو ایک کلو وزن کے ٹڈی دل کے بیس روپے ادا کرتا ہے۔

ٹڈی دل صرف دن کے وقت اُڑتے ہیں اور رات ہوتے ہی ان کے جھنڈ کے جھنڈ کھلے میدانوں اور درختوں پر جمع ہوجاتے ہیں اور بنا حرکت کے صبح ہونے تک وہیں پڑے رہتے ہیں۔ اسطرح رات کے وقت ان کو پکڑنا نہایت آسان ہوتا ہے۔

اوسطا ایک کمیونٹی ایک رات میں سات ٹن ٹڈی دل تک جمع کر سکتی ہے۔ پروجیکٹ ٹیم اس کا وزن کرکے انہیں نزدیکی پلانٹس میں فروخت کردیتی ہے جہاں یہ ہائی پروٹین فیڈ بنانے میں استعمال کئے جارہے ہیں۔

پاکستانی کاشتکاروں کے گروپ کے ہر فرد نے اس کام سے صرف ایک رات میں بیس ہزار روپے تک کمائے ہیں۔

جوہر علی کے مطابق جب پہلے دن جب ہم نے اس بارے میں بات کی تو صرف دس سے پندرہ لوگ ہی آئے لیکن پیسے کمانے کی بات بہت تیزی سے پھیل گئی اور تیسرے ہی دن کئی سو لوگ اس کام کے لئے آگئے حتی کے ہمیں انہیں کسی قسم کے بیگ دینے کی ضرورت بھی نہ پڑی کیونکہ وہ اپنی موٹر بائیکس پر اپنے ٹڈی دل سے بھرے بیگ لے کر آئے تھے۔ ہم نے صرف ان کو چیک کیا کہ وہ ٹڈی دل سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کا وزن کرکے ان کی محنت کے لئے ان کو ادائیگی کردی۔

ہائی پروٹین

محمد اطہر ہائی ٹیک فیڈ گروپ کے جنرل منیجر ہیں جو پاکستان میں پولٹری بریڈر اور جانوروں کے لئے فیڈ بنانے والا سب سے بڑا گروپ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے برائلر چکن کو ٹڈی دل سے تیار کردی فیڈ دی اور پانچ ہفتے کی اسٹڈی میں تمام غذائی پہلو کے نتائج مثبت آئے ہیں۔ اس لئے ہم مطمئین ہیں کہ ان سے فیڈ تیار کرنے میں کوئی ایشو نہیں ہے۔ اگر بغیر کسی اسپرے کہ ہم ٹڈی دل پکڑ سکیں تو ان کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ انہیں فش اور پولٹری کے علاوہ ڈیری فیڈ میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک اعشاریہ پانچ بلین چکن کی افزائش کے فارم اور بہت سے فش فارمز ہیں جہاں یہ فیڈ استعمال کی جاسکتی ہے۔

تجارتی مفاد

اس وقت پاکستان میں تین لاکھ ٹن سویا بین امپورٹ کی جاری ہے اور ان سے آئل نکالنے کے بعد اسکے کرش کو جانوروں کی فیڈ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ سویا بین میں صرف پینتالیس فیصد پروٹین ہوتی ہے جب کہ ٹڈی دل میں یہ ستر فیصد ہے۔ سویا بین سے تیار کردہ کھانا پاکستانی نوے روپے کا ایک کلو ہے جب کہ ٹڈی دل کی صورت میں خرچ صرف وہی ہے جو ہم اس کو پکڑنے اور سکھانے پر آتی ہے تاکہ انہیں استعمال کیا جاسکے ۔

پائلٹ اسٹڈی کے مکمل ہوتے ہی کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اس آئیڈیا پر کام کو محدود کرنا پڑا جبکہ دونوں ماسٹر مائنڈز اس کو بڑے پیمانے یا کمرشل سطح پر کرنے کی خواہشمند تھے۔

اب جبکہ پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کردی گئی ہے۔ اس پروجیکٹ پر دوبارہ کام شروع کیا گیا ہے۔ جوہر علی کا کہنا ہے کہ کمیونٹی کو صرف ٹڈی دل جمع کر کے اسکو بیچنا ہے۔ بہت سے لوگ جو وبا کی وجہ سے بے روزگار ہوگئے ہیں وہ مل کر یہ کام کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ رائس ملنگ فرمز بھی گرمیوں میں اضافی کاموں کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں کیونکہ رائس ملنگ کا کام عموما سردیوں میں ہوتا ہے۔

یہ ایک غیر معولی حل ہے اور آسانی سے ہمارے زیادہ آبادی والے دیہی علاقوں میں اس کام کو بڑھایا جاسکتا ہے کیونکہ صحرائی علاقوں میں اسپرے کرنا تو سمجھ آتا ہے لیکن فصلوں، انسانوں اور جاندار جہاں موجود ہیں وہاں اسپرے کرنا نقصان دہ ہے۔

ٹینیکل ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن سندھ کے ہیڈ طاہر خان کہتے ہیں کہ یہ ایک بہترین آئیڈیا ہے مگر عام لوگوں سے خریدنے کا باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ باقاعدہ ایک نظام بنایا جائے کہ کون ہوگا جو عوام سے ٹڈی دل خریدے گا اور اس میں جانورں کے لیے فیڈ بنانے والی انڈسٹری کو لازمی انوالو کیا جائے۔

ہنگامی حالات

طاہر خان کے مطابق ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ سلسلہ نومبر تک چلے گا اور اس پر ہمیں ایک مکمل پالیسی بنانا ہوگی۔ کیونکہ دیہی علاقوں میں ٹڈی دل پکڑ کر اس کو جانورں کی فیڈ کے لئے استعمال کرنا بہترین حل ہے اور اسپرے صرف صحرائی علاقوں تک ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔

انیس سو ترانوے سے جب آخری مرتبہ پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ ہوا تھا تب سے ملک میں عموماً خشک موسم ہی رہا ہے جبکہ ٹڈی ڈل کی پیدائش اور بڑھنے کے لئے صحرائی علاقوں میں نمی والا ماحول درکار ہوتا ہے۔

یمن سے آنے والے ٹڈی دل کی بغیر کسی وقفے کے یہ تیسری جنریشن ہے۔ یہ نومبر میں ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوئی تھیں اور تب سے مسلسل ان کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ یہ موسم سرما میں سندھ ، پنجاب اور کے پی میں پچھلی سردیوں سے بہار کے موسم تک ان کا ایک سیزن تھا اور اب مئی سے شروع ہونا سلسلہ نومبر تک چلے گا۔

 پاکستان کا سرکاری ٹڈی ایکشن پلان این ڈی ایم اے نے فنڈ کیا ہے جس سے کیڑے مار دوائیاں اور ائیر کرافٹس کو اس کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ منسٹری آف فوڈ سیکیورٹی، صوبائی ایگریکلچرل ڈپارٹمنٹ اور قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کی مشترکہ کاوش ہے۔ اس وقت بہت ہی ہیوی اسپرے کیا جارہا ہے۔ خصوصا ساحلی علاقوں میں مگر ہم ٹڈی دل سے چھٹکارا نہیں پاسکتے بلکہ انہیں کنٹرول کرسکتے ہیں۔

محمد خورشید کے مطابق مئی کے آخر سے ٹڈی دل کی بہت بڑی تعداد کا حملہ متوقع ہے اور اس کے لئے لوکل کمیونٹی کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے کہ وہ ان کو پکڑیں اور حکومت ان سے جلد از جلد خریدنے کا نظام کا قائم کرے۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ کو پرائیوٹ پولٹری اور اینییمل انٹرپرائز کو اس میں انوالو کریں تاکہ وہ ٹڈی خریدیں اور جن علاقوں میں بھی ایسا ممکن ہو وہاں اسپرے فورا بند کردیا جائے۔

بڑے پیمانے پر ٹڈی دل کو پکڑنے کی اسٹرٹیجی بنائی جاسکتی ہے مثلا میدانی علاقوں میں پول لگا کر ان پر جال باندھ  کر بھی انہیں پکڑا جاسکتا ہے۔ اس پر شاید ایک مرتبہ لاگت زیادہ ہو لیکن ان کے زریعے مستقل بڑے پیمانے پر ٹڈی دل کو پکڑنے کا کام آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔

اسلام آباد میں ماحولیات کے ماہر کے مطابق بڑے پیمانے پر ماحول دوست کیڑے مار دوا جیسے نیم کے درخت کے تیل کی پروڈکشن بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ کیونکہ جن پودوں پر یہ اسپرے کیا جاتا ہے ٹڈی دل اس کے قریب نہیں جاتا۔

چونکہ منصوبہ قابل عمل ہے اسلئے پاکستان کے اس منصوبے پر انڈیا بھی عمل درآمد کرسکتا ہے اور انڈین گورنمنٹ نے اس آئیڈیا کو اپنانے کا عندیہ دے دیا ہے۔

یہ مضمون پہلی مرتبہ انگلش ویب سائٹ تھرڈ پول پر شائع ہوا جہاں سے ترجمہ کیا گیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube