Friday, July 10, 2020  | 18 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

عالمی وبا سے نمٹنے میں خواتین کا مثالی کردار

SAMAA | - Posted: Jun 2, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 2, 2020 | Last Updated: 1 month ago

دنیا بھر میں  75فیصد طبی عملہ خواتین پر مشتمل ہے جبکہ نرسوں کی 90 فیصد تعداد عورتوں پر مشتمل ہے جو کرونا وائرس کی وبا کے دوران انسانی جانیں بچانے میں اہم ترین کردار ادا کر رہی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار دنیا کی معروف خواتین ماہرین صحت نے اتوار کے روز “کرونا وائرس اور خواتین کا کردار” کے عنوان سے بین الاقوامی آن لائن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینارکا انعقاد پاکستان جی آئی اینڈ لیور ڈیزیز سوسائٹی نے میڈیکل مائیکروبائیولوجی اینڈ انفیکشس ڈیزیزز سوسائٹی آف پاکستان سمیت دیگر قومی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے کیا تھا۔

پاکستان سمیت امریکا، آسٹریلیا، تھائی لینڈ، ملائیشیا، سعودی عرب، انڈیا اور برازیل کی شرکاء نے توجہ دلائی کہ دنیا کے چند ممالک میں جہاں خواتین وزرائے اعظم اور صدور ہیں وہاں کرونا وائرس سے ہونے والی تباہ کاریاں دیگر ممالک کے مقابلے میں خاصی کم ہیں۔

شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ مردوں کی بہ نسبت خواتین اس وبا کے نتیجے میں بہت کم تعداد میں جاں بحق ہوئی ہیں جس کی چند بڑی وجوہات میں صفائی ستھرائی کا زیادہ خیال رکھنا، مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہاتھ دھونا اور لاک ڈاؤن پر زیادہ سختی سے عمل کرنے کے ساتھ سگریٹ نوشی اور دیگر علتوں سے باز رہنا شامل ہے۔

معروف پاکستانی گیسٹرواینٹرولوجسٹ ڈاکٹر لبنیٰ کامانی نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے وہ تمام اسپتال جن کی سربراہی خواتین کر رہی ہیں وہاں پر صورت حال دیگر اسپتالوں اور اداروں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ نہ صرف خواتین لیڈرز نے کرونا وائرس کی وبا کے دوران بہترین قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے ہزاروں جانیں بچائی ہیں بلکہ کرونا وائرس کے نتیجے میں خواتین کی ہلاکتوں کی تعداد مردوں سے انتہائی کم بھی رہی ہے جس کی اہم ترین وجہ ان کی احتیاط پسندی اور انسانی جان کی اہمیت کو سمجھنا ہے۔

ملائیشیا کی معروف ماہر صحت ڈاکٹر شرمیلا ساچی  تھنندن کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد جہاں مرد وزرائے اعظم اور سربراہان مملکت نے بہت قیمتی وقت ضائع کیا وہاں خواتین لیڈروں نے فوری فیصلے کیے اور ماہرین سے مشورہ کرنے کے بعد سخت لاک ڈاؤن اور دیگر اقدامات کیے جس کے نتیجے میں نیوزی لینڈ، ناروے، ڈنمارک اور تائیوان میں شرح اموات کافی کم رہی اور وہاں معاشی سرگرمیاں بھی دوسرے ممالک کے نتیجے میں کم متاثر ہوئیں۔

ڈاکٹر شرمیلا کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں بھارتی ریاست کیرالہ کی وزیر صحت کا کردار بھی بہت اہم ہے جنہوں نے انتہائی اہم فیصلوں کے ذریعے ساڑھے تین کروڑ آبادی کی ریاست میں کرونا وائرس کی وبا کو کنٹرول میں رکھا جس کے نتیجے میں وہاں پر انتہائی کم ہلاکتیں ہوئیں۔

میڈیکل مائیکروبائیولوجی اور انفیکشن ڈیزیز سوسائٹی آف پاکستان کی صدر ڈاکٹر بشری جمیل کا کہنا تھا کہ عورتیں نہ صرف قدرتی طور پر بلکہ اپنے عادات و اطوار کی وجہ سے بھی کورونا وائرس سے کم متاثر ہورہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عورتوں میں سگریٹ اور شراب نوشی سمیت دیگر منشیات کا استعمال انتہائی کم ہے اور صفائی ستھرائی کا رجحان بھی مردوں سے زیادہ ہے جب کہ وہ زیادہ احتیاط پسندی کی وجہ سے اس وائرس سے نہ صرف کم متاثر ہورہی ہیں بلکہ ان میں شرح اموات بھی اسی مناسبت سے انتہائی کم ہے۔

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی ماہر صحت ڈاکٹر ماجدہ عبدالفتح کا کہنا تھا کہ حاملہ خواتین میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اس لیے ان خواتین کو چاہئے کہ وہ زیادہ احتیاط کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حاملہ خواتین کے لیے مسلسل آگاہی پروگرام منعقد کئے جانے چاہئے تاکہ نہ صرف وہ خود بلکہ انکے نوزائیدہ بچے بھی اس وبا سے محفوظ رہ سکیں۔

جناح اسپتال کراچی سے وابستہ ڈاکٹر نازش بٹ نے خواتین ماہرین صحت کے کردار کو مزید بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جن ممالک یا ریاستوں میں خواتین وزرائے صحت موجود ہیں وہاں کے لوگوں میں صحتیابی کی شرح دوسرے ممالک کے لوگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

سیمینار سے برازیل سے ڈاکٹر سیمون، امریکہ سے ڈاکٹر امریتا سیٹھی، جنوبی کوریا سے ڈاکٹر ان ینگ کم اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
PM, IMRAN KHAN, CORONAVIRUS, COVID19, COVID-19, PAKISTAN, HEALTH, LOCKDOWN, WHO, PUNJAB, SINDH, KP BALOCHISTAN, FEMALE DOCTORS, NURSES,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube