Saturday, July 11, 2020  | 19 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

ہفتے میں 5دن کاروبار کی اجازت، سیاحتی مقامات کھولنے کافیصلہ

SAMAA | - Posted: Jun 1, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 1, 2020 | Last Updated: 1 month ago

فوٹو آن لائن

وزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی نے ہفتے میں 5 دن کاروبار کی اجازت دینے، خیبرپختونخوا اور گلگت کے سیاحتی مراکز کھولنے اور مزید 10 ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کرلیا، ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کرونا وائرس سے بچاؤ کا علاج نہیں، کوئی گارنٹی نہیں لاک ڈاؤن کھولنے سے وائرس دوبارہ پھیل جائے، ابھی بھی ہمارے پاس 50 فیصد سے زیادہ وینٹی لیٹرز خالی ہیں، ٹیکس کلیکشن 30 فیصد کم اور انویسٹمنٹ رک چکی ہے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کرونا وائرس سے بچاؤ اور معیشت پر اس کے اثرات سمیت دیگر اہم امور پر گفتگو کی گئی۔

قومی رابطہ کمیٹی نے ملک بھر میں ہفتے میں 5 دن ایس او پیز کے تحت کاروبار کی اجازت دینے کا اور ہفتہ و اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہفتہ میں 5 دن کاروباری مراکز کو شام 7 بجے تک کھلا رکھا جائے گا، تمام حفاظتی تدابیر اور اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔

رابطہ کمیٹی نے مزید 10 ٹرینیں چلانے کی بھی منظوری دیدی، اب ملک کے مختلف حصوں کیلئے روزانہ 40 ٹرینیں چلیں گی، بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے وطن لایا جائے گا جبکہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات بھی کھولنے کا فیصلی کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کو سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کردی۔

پاکستان میں 24 مارچ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا، سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں عیدالفطر سے قبل چند روز کیلئے کاروباری مراکز کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ملک بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 72 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 1543 افراد مہلک مرض کے باعث زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، ہزاروں مریض اب بھی زیر علاج ہیں۔

تفصیلات جانیں : پاکستان ریلوےکا مزید5 ٹرینیں چلانےکافیصلہ

قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا ہے کہ 26 کیسز آئے تو ہم نے نیشنل سیکیورٹی کی میٹنگ کی اور لاک ڈاؤن لگایا، کسی کو نہیں معلوم تھا آگے کیا حالات ہوں گے، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہورہے ہیں۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں ہمارے حالات یورپ سے مختلف ہیں، ہمارے ہاں غربت ہے، زیادہ تر لوگ 2 وقت کا کھانا نہیں کھاسکتے، ملک میں 5 کروڑ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، سوچ رکھا تھا لاک ڈاؤن کیا تو غریبوں کا کیا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : کرونا وائرس کے باعث آم کی برآمد میں 40 فیصد کمی

ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کرونا وائرس سے بچاؤ کا علاج نہیں، لاک ڈاؤن سے صرف بیماری کا پھیلاؤ کم کیا جاسکتا ہے، لاک ڈاؤن کے ذریعے اسپتالوں پر پڑنے والا بوجھ کم کیا جاسکتا ہے، پیسے والے لوگوں کا رویہ مختلف تھا کہہ رہے تھے لاک ڈاؤن کرو، غریب، مزدور، دیہاڑی دار لوگوں کی بھوک و افلاس کو بھی دیکھنا ہے، میں جس طرح کا لاک ڈاؤن نہیں چاہتا تھا وہ پاکستان میں ہوگیا، لاک ڈاؤن نے نچلے طبقے کو بہت تکلیف پہنچائی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار، تعمیرات کے شعبے کو کبھی بند نہیں کرتا، جب تک ویکسین نہیں آجاتی کرونا وباء کے ساتھ ہی رہنا ہے، لاک ڈاؤن سے متاثرہ لوگوں میں 8 ارب ڈالر تقسیم کرچکے ہیں، کوئی گارنٹی نہیں لاک ڈاؤن کھولنے سے وائرس دوبارہ پھیل جائے، کرونا نے پھیلنا ہے، پہلے دن کہہ دیا تھا یہ بڑھے گا۔

مزید جانیے : پاکستان میں کرونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال اوراقدامات

عمران خان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں سیاحتی مقامات کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، عوام ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں، لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کی معیشت پر شدید اثر پڑا ہے، ٹیکس کلیکشن 30 فیصد کم اور انویسٹمنٹ رک چکی ہے،۔

وزیراعظم نے ہیلتھ پروفیشنلز سے متعلق کہا کہ ڈاکٹرز، طبی عملے کو یقین دلاتا ہوں کہ پہلے دن سے آپ کی فکر ہے، ڈاکٹرز، طبی عملہ جہاد کررہا ہے، ان کی مشکلات کا اندازہ ہے، بلڈ پریشر، شوگر میں مبتلا اور بزرگوں کو زیادہ خطرہ ہے، وینٹی لیٹرز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کررہے ہیں، ابھی بھی ہمارے پاس 50 فیصد سے زیادہ وینٹی لیٹرز خالی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
PM, IMRAN KHAN, CORONAVIRUS, COVID19, COVID-19, PAKISTAN, HEALTH, LOCKDOWN, WHO, PUNJAB, SINDH, KP BALOCHISTAN,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube