Friday, July 3, 2020  | 11 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

چینی کیس میں وزیراعظم براہ راست ملوث ہیں، سندھ حکومت

SAMAA | - Posted: Jun 1, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 1, 2020 | Last Updated: 1 month ago

ترجمان سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اس چینی کیس میں براہ راست ملوث ہیں کیونکہ انہوں نے چینی ایکسپورٹ کی اجازت دی۔

سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو شوگر کمیشن نے ایک مرتبہ بھی نہیں بلایا کیونکہ وفاقی حکومت اور شہزاد اکبر اپنے وزیر اعظم کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ای سی سی کی سفارش پر چینی ایکسپورٹ کی اجازت دی۔ منسٹری آف کامرس نے ایک ملین ٹن چینی کی ایکسپورٹ کی سفارش کی اور 2 اکتوبر 2018 کو ای سی سی نے ایکسپورٹ کی سفارش منظور کی۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ شہزاد اکبر نے کہا کہ وزیراعظم نے سبسڈی نہیں دی صرف ایکسپورٹ کی اجازت دی لیکن شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں سندھ حکومت کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔

ترجمان نے کہا کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کی پیپلزپارٹی کی حکومت اور قیادت چینی کیس میں ملوث ہے۔ شہزاد اکبر نے صرف سندھ کا ذکر کیا باقی کسی کا نہیں لیکن رپورٹ کے ساتھ لگے ہوئے دستاویزات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایکسپورٹ کی اجازت وفاقی حکومت نے دی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کہتے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں سے سبسڈی کا حساب لیں گے۔ وفاقی حکومت کا سبسڈی نہ دینا ان کی کوئی کامیابی نہیں کیونکہ ماضی کی کابینہ کا فیصلہ تھا کہ آئندہ کوئی سبسڈی نہیں دی جائے گی۔ سندھ حکومت نے 2018 اور 2019 میں کوئی سبسڈی نہیں دی ہے بلکہ سبسڈی پنجاب حکومت نے دی ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کمیشن نے پھر 13 مئی کو خط لکھا اور سندھ حکومت نے 14 مئی کو جواب دیا۔ اس سے پہلے سندھ حکومت نے 12 مئی کو جواب دیا تھا کہ ان وجوہات پر کمیشن میں پیش نہیں ہوسکتے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ چینی کی قیمت میں اضافے سے 40.5 ارب روپے منافع کمایا گیا۔ شاید انسانی جان سے زیادہ معیشت وفاقی حکومت کی ترجیح ہے۔ ہمیں کہتے ہیں تین ارب کا سوال نہ پوچھو ورنہ ہم 26 ارب کا سوال پوچھیں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube