Tuesday, July 7, 2020  | 15 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

طیارہ مکانوں پرگرتا توزیادہ نقصان ہوتا، ایس بی سی اے

SAMAA | - Posted: Jun 1, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 1, 2020 | Last Updated: 1 month ago

فوٹو : اے ایف پی

ڈائریکٹر ایس بی سی اے علی مہدی کاضمی کہتے ہیں کہ یہ حادثہ ہے اور جب طیارہ کنٹرول سے باہر ہوگیا تو وہ کہیں بھی گر سکتا تھا۔ مکانوں پر گرتا تو زیادہ نقصان ہوتا۔

کراچی کے علاقے ماڈل کالونی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ڈینجرس کمیٹی کی ٹیم نے معائنہ کیا جس میں 18 مکانات کو نقصان ہوا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں علی مہدی کاضمی نے کہا کہ طیارہ اگر گلی میں نا گرتا اور مکانوں پر گرتا تو زیادہ نقصان ہوتا۔ جل جانے والی عمارتیں مخدوش ہو جاتی ہیں ان کا سریہ پگھل جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکانات کی بلندی 20 فٹ ہوتی ہے اور اس سے طیاروں کی پرواز پر فرق نہیں پڑتا جبکہ کثیر المنزلہ عمارتیں 50 فٹ سے زیادہ بلند ہوں تو سی اے اس کی اجازت دیتی ہے۔

علی مہدی کاظمی نے کہا کہ کچھ مکانات گرانڈ پلس ٹو ہیں کوئی بلند مکان نہیں ہے اور ہائی رائس عمارت کیلئے پاک ایر فورس اجازت دیتی ہے پھر بنتی ہے۔ اس وقت جو منصوبے زیر تعمیر ہیں ان کی این او سی سی اے نے دی ہے۔

متاثرہ مکان بند ہیں ان کے مالکان نہیں ہیں اس لیے اندر نہیں جا سکتے۔ متاثرہ عمارتوں کے مالکان اور انتظامیہ یہاں آئیں تو ان کا اندر سے معائنہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیکنیکل کمیٹی نے متاثرہ مکانات کا معائنہ کیا اور متاثرہ عمارتوں کے سیمپل جمع کیے۔ ٹیکنیکل کمیٹی کی رپورٹ آنے میں ایک ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی رپورٹ حکومت سندھ اور متعلقہ حکام کو پیش کی جائے گی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube