Thursday, October 1, 2020  | 12 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

سندھ نے دسمبر2017 میں چینی پرسبسڈی دی تھی، مرتضیٰ وہاب

SAMAA | - Posted: May 28, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: May 28, 2020 | Last Updated: 4 months ago

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں کہ چینی بحران سے ہمارا کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہم نے آخری مرتبہ سبسڈی 2017 میں دی تھی۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت نے 2018، 2019 اور 2020 میں کوئی سبسڈی نہیں دی تھی جبکہ نومبر 2019 سے لے کر 2020 تک چینی میں قلت ہوئی۔ چینی کی ہول سیل قیمت 50 روپے 10 پیسے اور ریٹیل قیمت 53 روپے پر برقرار رکھی جبکہ مارچ 2018 میں قیمت 51روپے پر آگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایمپورٹ اور ایکسپورٹ کرنے کا اختیار کا وفاقی حکومت کے پاس ہے اور شوگر کمیشن کی ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ چینی ایکسپورٹ کی وجہ سے بحران پیدا ہوا اور قیمتیں بڑھیں جبکہ چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت وفاقی حکومت نے دی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سمری کو دیکھا ہے۔ کمیشن کے مطابق وزیر اعظم کی منظوری سے چینی ایکسپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اسی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کی منظوری سے سبسڈی دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مانفع خوروں نے فائدہ اٹھایا تو وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور اس رپورٹ کی تشکیل یا بناتے وقت وزیر اعلیٰ کو نوٹس ملا اور نہ ہی وزیر اعلی کو اس انکوائری کے متعلق بتایا گیا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کو ایک بار بھی مدعو نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس معاملے کے متعلق سوالنامہ دیا گیا۔ انکوائری رپورٹ جمع ہونے تک وزیر اعلی سندھ کا کوئی معاملہ نہیں تھا۔

انکا کہنا تھا کہ اس انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر کمیشن تشکیل دیا گیا اور کمیشن کو ٹی او آرز کے تحت کام کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ کمیشن نے وزیراعلیٰ سندھ کو ایک بار 11 مئی کو طلب کیا جس پر 13 مئی کو ہم نے جواب دیا کہ یہ آپ کے اختیار میں نہیں آتا کیونکہ ٹی او آرز کےتحت کمیشن وزیراعلیٰ کو طلب کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube