Sunday, July 12, 2020  | 20 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

کراچی: پی آئی اے کاطیارہ لینڈنگ سے قبل گرکرتباہ

SAMAA | , and - Posted: May 22, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Posted: May 22, 2020 | Last Updated: 2 months ago

طیارے میں عملے سمیت 107 افراد سوار تھے

کراچی ایئرپورٹ پر رن وے کے قریب ماڈل کالونی کے علاقے میں پی آئی اے کا مسافر طیاہ گر کر تباہ ہوگیا۔ محکمہ صحت کے مطابق واقعے میں 76 افراد جاں بحق ہوگئے، 2 زخمیوں کو زندہ نکال لیا گیا، واقعے میں ایک درجن سے زائد گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق حادثے کا شکار ہونیوالے طیارے میں 99 مسافر اور عملے کے 8 افراد سوار تھے۔ ایئر بس اے 320 پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 لاہور سے 1 بج کر 10 منٹ پر کراچی کیلئے روانہ ہوئی تھی جو کہ لینڈنگ سے چد منٹ پہلے ایئر پورٹ سے متصل ماڈل کالونی میں حادثے کا شکار ہوگئی۔

طیارے کو حادثہ لینڈنگ سے قبل ملیر کینٹ کے گیٹ نمبر 2 پر پیش آیا جو کہ ایئرپورٹ کے ساتھ متصل علاقہ ہے، حادثے کے باعث 12 سے زائد  گھروں کو نقصان پہنچا، حادثے کے بعد کراچی ایئر پورٹ پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کیں، جس میں امدادی اداے بھی شامل تھے، فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیوں آگ بجھانے کیلئے علاقے میں پہنچیں۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق حادثے میں 76 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔ جن میں 44 لاشیں جناح اور 32 سول اسپتال منتقل کی گئیں۔ جاں بحق ہونے والے 14 افراد کی شناخت ہوچکی ہے جبکہ دیگر کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی جائے گی۔

محکمہ صحت کے مطابق طیارہ حادثے میں معجزاتی طور پر بچ جانے والے دو افراد سول اور دارالصحت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ہیلپ لائن

پی آئی اے کے ایمرجنسی رسپانس یونٹ نے طیارے میں سوار افراد کے اہل خانہ کی سہولت کیلئے رابطہ نمبر جاری کیے ہیں۔ حادثے اور مسافروں کے بارے میں کسی قسم کی معلومات کیلئے ان نمبرز پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

پی آئی اے ایمرجنسی رسپانس یونٹ ہیلپ لائن : 02199242284،  02199043766، 02199043833

لاہور : 042990312153، 042990312126

کراچی : 02199072384، 02199072385

سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں شناخت کا عمل مکمل ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ  کراچی کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافز کردی ہے اور کرونا وائرس کی وجہ سے پہلے ہی اسپتال ہائی الرٹ ہیں۔

دو مسافروں کے بچنے کی تصدیق

حکام کے مطابق اب تک دو افراد کے بچ جانے کی تصدیق ہوئی ہے جن کی شناخت ظفر مسعود اور محمد زبیر کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ظفر مسعود بینک آف پنجاب کے صدر ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دارالصحت اسپتال میں ان کی عیادت کی اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

طيارہ حادثے میں معجزاتی طور پر بچنے والے نوجوان محمد زبیر سول اسپتال میں زیرعلاج ہیں جہاں صوبائی وزیر سعید غنی نے ان کی عیادت کی۔

محمد زبیرنے بتایا کہ جہاز لينڈنگ پر چلا گيا تھا۔ لينڈنگ پر جہاز ہل گيا۔ معلوم نہیں جہاز کے وہيل نہيں کھلے يا بريک نہيں لگی مگر کپتان نے جہاز کو پھر اُڑا ديا۔ اس کے بعد دس سے پندرہ منٹ جہاز فضا ميں گھومتا رہا۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ زبير نے طيارہ گرنے کے بعد چھلانگ لگا کر خود کو بچايا۔

بلیک باکس مل گیا

حادثے کا شکار طیارے کا بلیک باکس مل گیا ہے۔ تکنیکی ٹیم نے بلیک باکس تحویل میں لے لیا۔ بلیک باکس کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے کمپنی کو بھیجا جائے گا۔

انجن میں خرابی

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سماء ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے سی ای او ارشد ملک کے مطابق طیارے کے انجن میں مسئلہ تھا اور لینڈنگ گیئر نے کام نہیں کیا۔

وفاقی وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم حادثے کے متاثرین کو اکیلے نہیں چھوڑیں گے۔ ان کی مالی معاونت کی جائے گی۔

طیارہ 10 سال پرانا تھا

پاکستان ایئرلائن پائلٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری عمران ناریجو کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے قبل کچھ کہنا مناسب نہیں مگر ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ طیارے کے لینڈنگ گیئر نے کا نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ طیارہ دس سال پرانا تھا اور پی آٗئی اے نے اس کو لیز پر حاصل کیا تھا۔

عمران ناریجو نے وزیراعظم عمران خان اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ حادثے کی تحقیقات کیلئے بورڈ تشکیل دیا جائے تاکہ اصل وجوہات معلوم ہوسکیں اور آئندہ کیلئے ایسے سانحات کا تدارک ہوسکے۔

پروازیں بحال

حادثے کے بعد کراچی ایئرپورٹ پر آپریشنز بحال کردیے گئے ہیں۔ پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن 48 گھنٹوں تک جاری رہے گا۔

تحقیاتی کمیٹی تشکیل

وفاقی حکومت نے کراچی میں طیارہ حادثے کی تحقیقات کیلئے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے کر ایک ماہ میں رپورٹ طلب کی ہے۔
حکومت پاکستان نے حادثے کی تحقیقات کیلئے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کے سربراہ ایئر کموڈور محمد عثمان غنی ہوں گے جو ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے سربراہ ہیں۔
دیگر تین ارکان میں ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹیکنیکل انویسٹی گیشن، پاکستان ایئرفورس سیفٹی بورڈ کے گروپ کیپٹن توقیر اور ناصر مجید شامل ہیں۔
کمیٹی جلد از جلد تحقیقات مکمل کرکے ایوی ایشن ڈویژن کو رپورٹ پیش کرے گی مگر ابتدائی تحقیقات سے متعلق ایک ماہ کے اندر رپورٹ دینے کی پابند ہوگی۔

وزیراعظم کا اظہار افسوس

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کیا ہے کہ پی آئی اے کا طیارہ گرنے پر دل نہایت رنجیدہ اور مغموم ہے۔ میں سی ای او ارشد ملک اور موقع پر موجود امدادی ٹیموں کےساتھ رابطے میں ہوں۔ فی الوقت یہ اولین ترجیح ہے۔ اس سانحے کی فوری تحقیقات کروائی جائیں گی۔ میری دعائیں اور تمام تر ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کیساتھ ہیں۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر شریک ہیں۔ کینیڈا کے عوام مشکل گھڑی میں آپ کے ساتھ ہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے کے باعث پوری قوم غمزدہ ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر شریک ہیں۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کی ہرممکن مدد کی جائے۔

مریم نواز شریف نے طیارہ حادثے کو دل دہلا دہنے والی خبر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جانی نقصان کا دکھ عزیز و اقارب ہی سب سے زیادہ محسوس کرتے ہیں مگر اس حادثے پر نہ صرف پاکستان بلکہ انسانیت غمزدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بغیر الوداع کیے کسی عزیز کے چلے جانے کا دکھ کبھی نہیں بھولتا۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنماؤں کی جانب سے پاکستان میں طیارہ حادثے پر تعزیتی پیغامات اور یکجہتی کے اظہار پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ غم کی گھڑی میں پاکستانی عوام اس تعاون اور یکجہتی کی قدر کرتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube