Friday, August 14, 2020  | 23 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

چینی کمیشن کی رپورٹ میں انصاف کہیں نظرنہیں آرہا، جہانگیرترین

SAMAA | - Posted: May 21, 2020 | Last Updated: 3 months ago
Posted: May 21, 2020 | Last Updated: 3 months ago

جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ چینی کمیشن کی رپورٹ میں انصاف کہیں نظر نہیں آرہا، چینی کی قیمت کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا گیا، جس نے دیگر معاملات پر آڈٹ شروع کردیا، چینی برآمد کرنے کی اجازت کیلئے کوئی دباؤ نہیں ڈالا، فیصلہ ای سی سی نے کیا تھا، ہر فیصلے میں جہانگیر ترین کے شامل ہونے کا تاثر غلط ہے، تسلی سے رپورٹ پڑھ کر وکلاء اور اپنی ٹیم سے مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کروں گا۔ پی ٹی آئی رہنماء کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے فیصلے کو بیلنس کرنے کیلئے مجھے بھی نااہل قرار دیا گیا، یہ پارٹی کیلئے میری سب سے بڑی قربانی تھی۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء جہانگیر خان ترین کا کہنا تھا کہ چینی بحران سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ سرسری پڑھی ہے، شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس دیکھ کر کنفیوژ ہوں، کمیشن چینی کی قیمت دو مرحلوں دسمبر 18 سے جون 19 اور اگلے مالی سال میں بڑھنے پر بنایا گیا تھا، ان چیزوں پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے فارنزک آڈٹ کا بہانا بنا کر دوسری چیزیں نکالنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں کہا کہ ملک میں مجموعی طور پر 80 سے زائد شوگر ملیں ہیں، جن میں 9 سے 10 ملوں کا آڈٹ کیا گیا، ان میں میری 3، خسرو بختیار اور شریف خاندان کی ایک ایک مل شامل ہے جبکہ اومنی گروپ اور ہمایوں اختر کی کسی شوگر مل کا آڈٹ نہیں کیا گیا۔

ندیم ملک کے سوال پر کہ جن لوگوں کے نام ہیں انہیں اڈیالہ میں ہونا چاہئے پر جہانگیر ترین نے انتہائی مطمئن انداز میں کہا کہ میں سیاستدان ہوں، اچھے برے وقت کیلئے تیار ہوں، جس طرح رپورٹ پیش کی گئی یہ ایک نا انصافی ہے، اس میں دور دور تک انصاف نظر نہیں آرہا، اس رپورٹ میں بہت سے ابہام ہیں۔

کیا ای سی سی سے ایک ملین ٹن ایکسپورٹ کی اجازت کیلئے اسد عمر یا عمران خان پر دباؤ ڈالا گیا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ اسد عمر اور عمران خان سے پوچھ لیں، آج تک چینی کے کاروبار سے متعلق کابینہ میں کبھی بات نہیں کی، اسد عمر کسی کے دباؤ میں آنے والے نہیں ہیں، برآمد کی اجازت سے معاملہ خراب ہوا، اجازت نہ ہوتی تو سبسڈی نہ دی جاتی اور ہم سبسڈی بھی نہ لیتے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی باڈیز نے فیصلے خود کئے، مجھ سے جہاں بھی مشورے مانگے گئے میں نے دیئے، میں کسی کمیٹی کا حصہ اور نہ ہی فیصلوں میں شامل تھا، چینی سے متعلق تحقیقات سمجھداری سے ہونی چاہئے، سٹہ مڈل مین کرتا ہے، ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے، میرا ریکارڈ صاف ہے ہمیشہ کاشتکار کو گنے کی 180 روپے قیمت ادا کی، رحیم یار خان کے کسی بھی علاقے میں جاکر اس کی تحقیقات کرلیں، صحیح قیمت کی وجہ سے مظفر گڑھ سے لوگ میری مل پر آکر گنا دیتے تھے۔

ندیم ملک نے پوچھا کہ ذمہ دار کون ہے اس کا فیصلہ کیسے ہوگا؟، جس پر ان کا کہنا تھا کہ جس نے برآمد کا فیصلہ کیا، اس سے پوچھا جائے کہ یہ فیصلہ درست تھا یا نہیں، چینی برآمد کرنے کا فیصلہ ای سی سی نے کیا تھا ان کے اراکین سے پوچھا جانا چاہئے۔

مزید جانیے : چینی بحران کے ملزمان کیخلاف نیب کیسز کا فیصلہ

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سبسڈی پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیاد پر دی، میں نے اس سے فائدہ اٹھایا، میں نواز دور حکومت میں بھی سبسڈی حاصل کرچکا ہوں، اس وقت اس پر کوئی بھی بات نہیں کی گئی۔

جہانگیر ترین نے پروڈکشن میں بڑے حصہ ہونے کے سوال پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چینی کی پروڈکشن میں میرا 21 فیصد حصہ ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، میرے تمام کاروبار کا تحریری حساب موجود ہے، جب بھی پوچھا جائے گا اس کا بہترین جواب دیا جائے گا۔

ندیم ملک نے پوچھا کہ کیا حکومت میں نیا گروپ بن رہا ہے جس کو رگڑا لگایا جارہا ہے، آپ بھی اس رگڑے والی فہرست میں آگئے ہیں؟، تو پی ٹی آئی رہنماء نے کہا کہ سیاست صاف شفاف کرنی چاہئے، رگڑا لگانے سے کام نہیں چلایا جاسکتا، ٹیم ورک نہ ہو تو حکومت چلانا مشکل ہوجاتا ہے، لوگوں کو رگڑا لگا کر لانگ ٹرم کامیابی نہیں ملتی۔

حکومتی فیصلوں پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں کرپشن کا نام و نشان نہیں ہے، میرا زیادہ وقت سیاست میں گزرتا تھا، ہر فیصلے میں جہانگیر ترین نہیں بیٹھتا تھا، یہ غلط تاثر ہے، یقیناً اب میں عمران خان کے مشیروں میں شامل نہیں ہوں، ایسا کیوں ہوا نہیں جانتا، اس پر افسوس ہے، عمران خان کے ساتھ میرے تعلقات کی کہانی ایک دن ضرور باہر نکلے گی، میں نے ہمیشہ پوری طاقت اور اچھی نیت کے ساتھ تحریک انصاف کو کامیاب کرنے میں لگائی، میں اب بھی پارٹی کا حصہ ہوں۔

سماء کے اینکر کے سوال کہ پی ٹی آئی حکومت میں 2 سال کے دوران تاریخ کے بلند ترین مالیاتی خسارے کا سامنا ہے؟ یہ کرپشن کا نتیجہ ہے یا نااہلیت کا؟۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ حکومت میں آج کل کچھ مسائل نظر آرہے ہیں، تاہم کرپشن کی موجودگی سے دو ٹوک الفاظ میں انکار کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مالیاتی خسارہ نہیں ہونا چاہئے تھا، پتہ نہیں کیوں ہوا، 2020ء کا خسارہ کرونا کے باعث ہوگا۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ ہم بہت امید سے آئے تھے، ہمارا منشور تھا کہ اسٹیٹس کو سے باہر نکلیں گے، عوام کی خاطر کام اور ان کے حالات بہتر کریں گے، اسکول اور پولیس ریفارمز بھی ایجنڈا تھا، ابھی تین سال باقی ہیں، امید ہے ہماری ٹیم اور انچارج یہ مقاصد حاصل کرلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں نااہلیت پارٹی کیلئے سب سے بڑی قربانی تھی، نواز شریف کے فیصلے کو بیلنس کرنے کیلئے مجھے بھی نااہل کیا گیا، اگر عمران خان کے ساتھ نواز شریف کے مقابلے میں کھڑا نہ ہوتا میرے خلاف ریفرنس فائل نہ ہوتا، میرے تمام کاروبار دستاویز پر موجود ہیں، لوگ جانتے ہیں کہ یہ فیصلہ برابر کرنے کیلئے کیا گیا۔

کابینہ میں موجود لوگوں پر چینی اسکینڈل میں فائدہ اٹھانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں پر الزامات ہیں وہ جواب دیں گے، انہیں جواب دینا بھی چاہئے، میرے مستقبل کی چابی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، مجھے اللہ پر پورا بھروسہ ہے۔

رپورٹ چیلنج کرنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ تسلی سے رپورٹ پڑھ کر وکلاء اور اپنی ٹیم سے مشاورت کروں گا، اس کے بعد بڑے سکون سے فیصلہ کریں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
NADEEM MALIK LIVE, NML, SAMAA, SUGAR COMMISSION, IMRAN KHAN, PM, PTI, JAHANGIR TAREEN, CORRUPTION, EXPORT, SUBSIDY,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube