Tuesday, July 7, 2020  | 15 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

عمران فاروق قتل کیس:ملزمان کےوکلا کےحتمی دلائل مکمل

SAMAA | - Posted: May 20, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: May 20, 2020 | Last Updated: 2 months ago

عمران فاروق قتل کیس کے فیصلہ کن مرحلے میں تینوں ملزمان کے وکلا نے حتمی دلائل مکمل کرلئے ہیں۔

بدھ کوانسدادِدہشت گردی عدالت میں ایم کیوایم رہنماءعمران فاروق قتل کیس کی سماعت ہوئی۔

وکیل صفائی مہر بخش نے حتمی دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ عمران فاروق کی بیوہ شمائلہ عمران نے عدالت کے سامنے من گھڑت بیان دیا،شمائلہ عمران نےکہا کہ عمران فاروق کیخلاف کوئی کیس ہی نہیں تھا،حقیقت یہ ہے کہ عمران فاروق پر4 مقدمات میں فردِجرم عائد ہوئی تھی۔

وکیل مہربخش نے مزید کہا کہ استغاثہ نے کہا کہ قتل محسن علی نے کیا لیکن گواہان کےبیان سےایسا ظاہر نہیں ہوتا، برطانیہ سےعینی شاہد خاتون نے قاتل کا جو حلیہ بتایا وہ محسن علی سےنہیں ملتا،عینی شاہد کے مطابق قاتل کا رنگ گہرا تھا جبکہ محسن علی کا سفید رنگ چہرہ ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں ملزمان خالد شمیم، محسن اور معظم علی کو اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔ تینوں ملزمان کے وکلا نے حتمی دلائل مکمل کرلئے ہیں۔

گزشتہ روز ایف آئی اے پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز نے ملزمان کی ٹریول ہسٹری، موبائل فون رابطوں اور آپس میں رقوم منتقل کرنے کا مکمل چارٹ پیش کیا تھا۔ دلائل میں خواجہ امتیاز نے کہا تھا کہ ملزم معظم علی کے اکاؤنٹ سے 9 لاکھ 25 ہزار روپے کاشف خان کو منتقل ہوئے،جبکہ 8 ستمبر 2010 کو کاشف کے اکاؤنٹ سے معظم علی کو 28 لاکھ روپے منتقل ہوئے، یہ سہولت کاری ٹرانزیکشنز تھیں۔محسن علی نے 3ہزار پاؤنڈز ماہانہ فیس والے ادارے میں داخلہ لیا جبکہ اس کے ذرائع آمدن اتنے نہیں تھے،یہ داخلہ محض قتل کا منصوبہ مکمل کرنے کیلئے لیا گیا،محسن علی نے قتل کے فوری بعد برطانیہ چھوڑ بھی دیا،جس سے ظاہر ہے کہ اس کا مقصد تعلیم اور ڈگری کا حصول نہیں ، عمران فاروق کا قتل تھا۔

دلائل میں مزید کہا گیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں محسن علی عمران فاروق کا پیچھا کرتا نظر آیا،چاقو پر فنگر پرنٹس بھی اسی کے ملے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube