Tuesday, July 7, 2020  | 15 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

وفاق کی آمدن کا صرف 0.2 فیصد صحت پر خرچ

SAMAA | - Posted: May 6, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: May 6, 2020 | Last Updated: 2 months ago

Photo/AFP

ایک طرف پاکستان صحت سے متعلق تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے مگر دوسری طرف حکومت نے رواں مالی سال کے 9 ماہ کے دوران بجٹ کا صرف 0.2 فیصد صحت پر خرچ کیا ہے۔

وزارتی خزانہ کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق 9 ماہ کے دوران وفاق کا ریونیو 4273 ارب رہا، جس میں محض 7.6 ارب روپے صحت پر خرچ کیے گئے. اس میں کرونا وائرس سے متعلق ہونے والے اخراجات بھی شامل ہیں۔

وزارت خزانہ کی اسی رپورٹ کے مطابق 9 ماہ کے دوران ریونیو کا تقریباً دو تہائی حصہ یعنی 62 فیصد قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاع پر خرچ ہوا۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 1879 ارب اور دفاع پر 802 ارب روپے خرچ ہوئے۔ اس دوران اور حکومت کو 1686 ارب کے بجٹ خسارے کا سامنا رہا۔ خسارے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے اخراجات اس کی آمدن سے زیادہ ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت کی آمدن میں نصف ٹریلین روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ محصولات میں کمی وجہ سے نو ماہ کے دوران ان پاکستان کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 3.8 فیصد کے برابر ہوگیا ہے.

پاکستان میں حکومتیں ٹیکس کلیکشن اور حکومتی آمدن بڑھانے میں ناکام رہی ہیں جس کی وجہ سے بجٹ خسارہ ہرسال بڑھتا گیا۔ ایک طرف حکومت آمدن بڑھانے میں ناکام ہے تو دوسری طرف اس کے اخراجات بھی روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان  قرضوں کے ایسے دلدل میں پھنس گیا ہے کہ پرانے قرضے چکانے کے لئے نئے قرضے لینے پڑتے ہیں اور آخر میں عوام پر خرچ کرنے کے لئے بہت کم پیسے بچ جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان نو ماہ کے دوران حکومت نے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام پر محض 722 ارب روپے خرچ کیے جو تمام اخراجات کا 11 فیصد بنتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube