Saturday, October 31, 2020  | 13 Rabiulawal, 1442
ہوم   > صحت

روزہ رکھنا قوت مدافعت بڑھاتا ہے، ماہرین

SAMAA | - Posted: Apr 24, 2020 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 24, 2020 | Last Updated: 6 months ago

ماہرین امراض پیٹ و جگر کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنا نا صرف نظام ہضم کیلئے انتہائی مفید ہے بلکہ اس سے انسان میں قوت مدافعت بڑھتی ہے جوکہ کئی متعدی امراض بشمول کرونا وائرس سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار ماہرین امراض پیٹ وجگر نے پاک جی ای اینڈ لیور ڈیزیز سوسائٹی (پی جی ایل ڈی ایس) کے زیر اہتمام  ایک آن لاین سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل روزے رکھ کر وزن میں کمی لائی جاسکتی ہے جبکہ روزے رکھنا دماغی صحت کیلئے بھی انتہائی مفید ہے۔

اس موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر امان اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ رمضان کے روزے مسلمانوں کیلئے انتہائی رحمت کا باعث ہیں کیونکہ ان کے ذریعے اللہ تعالی انسانی جسم کے نظام انہضام کی مرمت فرماتا ہے۔

انہوں نے کہ روزہ رکھنے سے انسانی جسم کی قوت مدافعت بڑھتی ہے جبکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ روزے رکھنے سے جسم میں مختلف بیماریوں کے وائرس کی تعداد میں کمی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بیماریوں پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ روزے دار جو کسی بھی قسم کی ادویات استعمال کر رہے ہیں انہیں چاہئے کہ روزہ رکھنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں اور اپنی ادویات باقاعدگی سے استعمال کریں تاکہ انہیں رمضان کے مہینے میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

لیاقت نیشنل اسپتال سے وابستہ ماہر امراض پیٹ وجگر پروفیسر ڈاکٹر لبنیٰ کمانی کا کہنا تھا کہ جگر کے امراض میں مبتلا ایسے مریض جن کی بیماری ابتدائی نوعیت کی ہے وہ اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے روزہ رکھ سکتے ہیں لیکن ایسے مریض جن کو  ڈاکٹروں نے پیشاب آور ادویات تجویز کر رکھی ہیں اور جن کو پیٹ میں پانی بھرجانے اور غنودگی جیسے مسائل کا سامنا ہے، انہیں روزہ رکھنے سے گریز کرنا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ رمضان کے روزے موٹاپے پر قابو پانے میں انتہائی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں اور اس وقت دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں “انٹر میٹینٹ فاسٹنگ” یا سولہ گھنٹے تک بغیر کھائے پیے رہنے کے عمل کے ذریعے موٹاپے پر قابو پانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

دارالصحت اسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شاہد احمد نے صحت مند غذا کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رمضان میں ہونے والے پیٹ کے تمام امراض کی وجہ غیر صحت مند اور حد سے زیادہ کھانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ سادہ اور صحت مند غذا کھائیں، تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں اور دودھ، دہی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پانی پیئں تاکہ وہ عبادات اور روزوں کا صحیح لطف اٹھا سکیں۔

لیاقت نیشنل اسپتال کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر سجاد جمیل نے کہا کہ کرونا وائرس سے متاثرہ ایسے مریض جن کو کسی قسم کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں یا معمولی علامات ہوں وہ روزہ رکھ سکتے ہیں، لیکن ایسے مریض جن کی بیماری درمیانی یا شدید نوعیت کی ہو انہیں گھروں میں رہنے کے بجائے اسپتال میں داخل ہونا چاہئے تاکہ ان کا باقاعدگی سے علاج ہو سکے۔

آن لائن سیمینار کی ماڈریٹر اور جناح اسپتال کی کنسلٹنٹ ڈاکٹر نازش بٹ کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کو سحر اور افطار میں چائے اور کافی پینے کی عادت ہوتی ہے جس کے نتیجے میں روزے کے دوران ان کو بار بار پیشاب آتا ہے اور ان کا جسم پانی کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے۔

لیاقت نیشنل اسپتال سے وابستہ ڈاکٹر حفیظ اللہ شیخ کا کہنا تھا کہ سحر اور افطار میں لوگ جلدی جلدی زیادہ سے زیادہ کھانا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ پیٹ کے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں، لہذا آہستہ آہستہ کھانا بہتر رہتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
CORONAVIRUS, COVID19, COVID-19, PAKISTAN, MUSLIM, RAMAZAN, FASTING, HEALTH
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube