Monday, August 10, 2020  | 19 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

کراچی:گزشتہ برس کی نسبت اپریل میں70فیصد زائداموات ہوئیں،فیصل ایدھی

SAMAA | - Posted: Apr 16, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 16, 2020 | Last Updated: 4 months ago

زیادہ تر افراد کو سانس کی تکلیف تھی

سندھ میں ہلاکتوں پر حکومت سندھ کے مبہم بیانات پر فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ اس سال اپریل میں سال 2019 کی نسبت اموات کا تناسب 70فیصد زیادہ ہے تاہم یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تمام اموات کرونا وائرس کی وجہ سے ہوئیں۔

سماء کے مارننگ شو نیا دن میں گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پریس کانفرنس میں 15 مشتبہ اموات کے حوالے سے کیے گئے انکشاف پر فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں میں لوگوں کے ٹیسٹ بہت کم ہو رہے ہیں اس لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کسے کرونا ہے اور کسے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ہمارے پاس گزشتہ سال کی نسبت 50 سے 70 فیصد زیادہ میتیں لائی گئی ہیں، اپریل کے ڈیٹا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اب تک ان 13 سے 14 دنوں کے ڈیٹا کے مطابق 70 فیصد میتیں گزشتہ سال کی نسبت زیادہ آئی ہیں جن میں زیادہ تر بڑی عمر کے افراد کی ہیں۔ تاہم یہ بہت کہنا مشکل ہوگا کہ یہ سب کرونا وائرس سے متاثر تھے یا نہیں۔

فیصل ایدھی نے یہ بھی کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سی جگہوں پر او پی ڈیز بند ہیں یا علاج نہیں ہو رہے۔ پہلے جو لوگ میت لا رہے تھے ان کے پاس ڈیٹھ سرٹیفکیٹ نہیں ہوتا تھا تاہم گزشتہ 10 سے 12 دنوں سے پہلے ایسا نہیں تھا مگر اب ہم نے لوگوں سے سرٹیفکیٹ لینا شروع کردیا ہے۔ زیادہ تر افراد نے یہ ہی وجہ بتائی ہے کہ انتقال سانس کی تکلیف کی وجہ سے ہوا۔

تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سب کو کرونا وائرس تھا کیوں کی ڈاکٹرز سے مشورے کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی کہ دیگر کئی بیماریوں میں بھی مریض کو سانس کی تکلیف ہوتی ہے لہٰذا واضح طور پر یہ کہنا کہ سب کرونا سے انتقال کرگئے غلط ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کے انتقال کرجانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ او پی ڈیز بند ہونے سے مریضوں کا علاج نہیں ہو رہا تاہم لوگوں کو چاہئے کہ اگر کوئی علامت ظاہر ہو تو فوری اسپتال جائیں خوفزدہ نہ ہوں۔ لاک ڈاؤن کا احترام کریں اور اپنے اور اپنے گھر والوں کیلئے گھروں میں رہیں۔

ڈاکٹر عبد الباری خان

انڈس اسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبد الباری خان سے سوال کیا گیا کہ اس بات میں کتنی حقیقیت ہے کہ لوگ چپ چاپ ایسے افراد کی تدفین کر رہے ہیں جو کرونا کا شکار تھے۔ جس پر ڈاکٹر باری کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں میں ایسے مریض بھی اسپتال لائے گئے جو مردہ حالت میں تھے یا بیمار تھے۔ ہم نے انڈس اسپتال میں لائے گئے 6 مریضوں کا ٹیسٹ کیا جو مثبت آیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر 1 سے 2 گھنٹے میں ٹیسٹ لیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے۔ ان 6 افراد کے ٹیسٹ مثبت آنے پر انہیں آئیسولیٹ کردیا گیا تھا۔ جس کے بعد ان کے اہل خانہ کا پتا لگایا گیا اور معلوم ہوا کہ خاندان کے دیگر افراد میں بھی کرونا وائرس موجود ہے۔ جس کے بعد ہم نے اعداد و شمار پر کام کیا اور اس سال کے ڈیٹا کو پچھلے سال کے ڈیٹا سے ملا کر دیکھا۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا پچھلے سال کے مقابلے میں لوگوں کی اموات میں اضافہ ہوا ہے یا نہیں۔ ہمیں یہ پالیسی بنا لینی چاہیئے کہ جو مشتبہ مریض اسپتال آئے اس کے نمونے لے کر فوراً ٹیسٹ کیلئے بھیجے جائیں۔ ہم نے حکومت کے متعین کردہ اصولوں پر عمل کیا کہ اگر کوئی ایسا مشتبہ مریض انڈس اسپتال میں آیا تو ہم نے فوری طور پر مقامی انتظامیہ کو آگاہ کیا تاکہ وہ اپنے طور پر جو تدابیر اختیار کرنا چاہے کر لے۔ جو مریض اسپتال لائے گئے ان سب کو سانس کی تکلیف تھی۔

اس موقع پر ڈاکٹر باری نے لوگوں سے اپیل کی کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ میں ایسی کوئی علامات ظاہر ہو رہی ہیں یا سانس لینے میں دشواری ہے تو فوراً اسپتال جائیں یا ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ گھر پر رہ کر نہ صرف آپ اپنے لیئے مشکل پیدا کریں گے بلکہ اپنے گھر والوں کی زندگی بھی مشکل میں ڈالیں گے۔ اس میں کوئی پریشانی کی بات نہیںاپنے بزرگوں اور بچوں کیلئے اس لاک ڈاؤن کا احترام کریں۔ اپنے گھروں میں رہیں کیوں کہ اگر یہ وبا بڑھی تو ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گی۔

سماء کی جانب سے ایک سوال پوچھا گیا کہ موجودہ صورت حال میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر لوگ میت لے کر اسپتال میں آتے ہیں تو وہ ڈرے ہوتے ہیں اور تعاون نہیں کرتے۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر باری نے کہا کہ یہ بات درست ہے ہمیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ لوگ اپنے پیاروں کی میتیں زبردستی ساتھ لے جاتے ہیں۔ کیوں کہ لوگ ایک تو دکھ میں ہوتے ہیں دوسرا یہ کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پیاروں کی میت کو روایتی انداز میں ہی دفنایا جائے نہ کہ ایسے اصولوں کے ساتھ جو کرونا وائرس سے انتقال کرجانے والے افراد کیلئے متعین کیے گئے ہیں اور ایسے موقع پر صورتحال کشیدہ بھی ہو جاتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ 2 افراد ایسے اسپتال لائے گئے جن کا انتقال ہوچکا تھا جبکہ کچھ کیسز ایسے تھے جو تشویش ناک حالت میں اسپتال لائے گئے تھے اور ایمرجنسی  وارڈ میں ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر مریض بڑی عمر کے تھے تاہم ان میں ایک 40 سال کا شخص بھی تھا۔ زیادہ تر افراد کو دیگر بیماریاں بھی تھی لیکن سب کے ساتھ ایسا نہیں تھا۔ لوگوں میں موجود خوف کے سوال پر ڈاکٹر باری نے بتایا کہ ہماری ایمرجنسی میں ہجوم بڑھ گیا ہے ایسے لوگ بھی اسپتال آرہے ہیں جنہیں صحت سے متعلق معمولی مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے بھی ہم نے اپنے اسپتال میں نظام مرتب کردیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube