Sunday, August 9, 2020  | 18 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

لاک ڈاؤن: پاکستان میں تیندے اپنے ٹھکانوں سے نکل آئے

SAMAA | - Posted: Apr 14, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 14, 2020 | Last Updated: 4 months ago

A male common leopard was spotted near Islamabad’s Margall Hills Trail No 5 recently. The photograph was captured by a camera trap set up by Mohebullah Naveed of the WWF-Pakistan.

چند روز قبل اسلام آباد کے مارگلہ ہلز میں میں ٹریل فائیو کے نزدیک کچھ سیاحوں نے ایک صحت مند تیندوا دیکھا اور اس کی ویڈیو ریکارڈ کردی۔ اس کے بعد پاکستان کے سوشل میڈیا پر پر تیندووں کا دور دورہ ہے۔

لوگوں کا خیال ہے کہ تیندوے اس لئے لیے باہر نکل رہے ہیں کہ لوگوں نے گھروں سے نکلنا چھوڑ دیا ہے۔ مگر مری ایبٹ آباد اور راولپنڈی میں وائلڈ لائف کے حکام کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد ان کی اضافی نقل وحرکت ریکارڈ نہیں کی گئی۔ ایبٹ آباد میں تیندووں کا نظر آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ مارگلہ ہلز میں تیندوے کی ویڈیو ریکارڈ کرنے والے محیب اللہ نوید کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں بھی یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا۔

A common leopard was caught on camera near Islamabad’s Margalla Hills Trail No 5 on November 28, 2019. Photo: Islamabad Wildlife Management Board/Facebook

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے محمد سیم کا کہنا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مرگلہ ہلز میں تیندوے ختم ہوگئے ہیں مگر یہ درست نہیں۔ اس ویڈیو میں نئی بات مگر ہے کہ جو تیندوا نظر آیا وہ بالکل تندرست اور صحت مند تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کے اس کو غذائی قلت کا سامنا نہیں۔

محمد وسیم کا کہنا ہے کہ یہاں تیندے اکثر نظر آتے ہیں۔ 2007 میں ایوان صدر کے پاس ایک تیندوا نظر آیا تھا۔ پھر اسلام آباد کے چڑیا گھر میں تیندوے نے حملہ کرکے متعدد جانوروں کو زخمی کر دیا۔ کچھ عرصہ قبل برطانوی شہزادی اور شہزادے کے دورے کے موقع پر بھی تیندوا نظر آیا تھا۔

پاکستان میں تیندوے کی موجودگی کے بارے میں تو سب کو پتہ ہے مگر اس بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں کہ ان کی تعداد کتنی ہے اور یہ کہاں کہاں پائے جاتے ہیں۔ 2018 میں شائع ہونے والی والی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں ان کی تعداد 15 ہے اور یہ سوات، دیر اور مارگلہ کے پہاڑوں میں پائے جاتے ہیں۔ حالانکہ تحقیق کے دوران وائلڈ لائف حکام اور مقامی لوگوں نے محققین کو بتایا تھا کہ تیندووں کی نسل ختم ہو گئی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے محمد وسیم کا کہنا ہے کہ پہلے تیندوے اکثر علاقوں میں پائے جاتے تھے۔ مگر انسانی آبادی میں اضافے کے ساتھ مادی ترقی نے ان کی تعداد کم کردی اور اب یہ صرف پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں نظر آتے ہیں۔

اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر انیس الرحمان نے سماء ٹی وی کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی حدود میں تین تیندوے پائے جاتے ہیں جن میں سے دو مارگلہ ہلز اور ایک شاہدرہ ویلیج میں ہے۔

پاکستان میں ان تیندووں کے بارے میں محققین کی دلچسپی اس وقت بڑھ گئی، جب ایبٹ آباد میں 2015 کی گرمیوں کے دوران تیندوے کے حملوں میں 6 خواتین جاں بحق ہوگئیں۔ اس کے بعد ’خونی تیندوے‘ زبان زد عام ہوگئے۔

Pakistani employees of the Wildlife Department treat an injured leopard in Peshawar, 28 June 2006. The two year old leopard was captured by the Wildlife Department with the help of tribesmen of Pakhi Bala village, some 30 kms from the north western city of Peshawar. AFP PHOTO/Tariq MAHMOOD (Photo by TARIQ MAHMOOD / AFP)

اگرچہ پاکستان میں تیندوے کے کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نسبتا کم ہے مگر مگر لوگوں میں اس کا خوف زیادہ پایا جاتا ہے۔ ماضی میں مغربی میڈیا نے اپنی رپوٹس میں یہاں تک کہا کہ پاکستان کے لوگ دہشت گردوں سے زیادہ تیندووں سے ڈرتے ہیں۔ ان رپورٹس میں انہوں نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا حوالہ بھی دیا۔

تیندوے کی نسل میں کمی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب بھی ایک تیندوا پہاڑوں سے اتر کر گاؤں میں آتا ہے تو گاؤں کے لوگ اس کو مار دیتے ہیں۔ بعض اوقات انتقام میں بھی ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ تیندوے اکثر حملہ کرکے بکریاں اور پالتو کتے کھا جاتے ہیں اور جواب میں بکریوں اور کتوں کے مالکان تیندوے کو مار ڈالتے ہیں۔

‏ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے محمد وسیم کے مطابق لوگ اس لئے تیندوے کو مار دیتے ہیں کہ حکومت بکریوں کا معاوضہ ادا نہیں کرتی۔ اگر کہیں معاوضہ دیا بھی جاتا ہے تو اس میں بڑا عرصہ لگ جاتا ہے۔

غیر قانونی شکار اور غیر قانونی تجارت بھی پاکستان میں پائے جانے والے تیندووں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ ابھی کچھ مہینے قبل اسلام اباد کی سیدپور ویلج میں ایک آدمی سے تیندوے کی کھال برآمد ہوئی تھی۔ ریسرچ کے مطابق پاکستان کا قانون تیندووں کو تحفظ تو فراہم کرتا ہے مگر اس پر عمل درآمد بہت کم ہوتا ہے۔

Employees of the Islamabad Wildlife Management Board showcase the leopard skin they confiscated from a poached in Islamabad’s Saidpur in October 2019. Photo: Islamabad Wildlife Management Board/Facebook

محمد وسیم کے مطابق تیندوے شرمیلے، فریبی اور رات کو جاگنے والے جنگلی جانور ہیں۔ یہ شکار کی تلاش میں صبح سے شام تک تک لگے رہتے ہیں۔ ان کے اپنے متعین علاقے ہوتے ہیں۔ ایک تیندوا اپنے علاقے سے باہر نہیں جاتا۔ بعض اوقات مرد تیندوا مادہ تیندوے کے علاقے میں گھس جاتے ہیں۔

جب مرد اور مادہ تیندوے کا ملاپ ہوتا ہے تو وہ صرف دس دن کیلئے ساتھ رہتے ہیں جبکہ شیر اس کے برعکس اپنی فیملی کے ساتھ مستقل رہتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube