ہوم   > پاکستان

ہم تھرڈ کلاس لوگ ہیں: کراچی پولیس اہلکار شہریوں سےخائف

SAMAA | - Posted: Apr 7, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 7, 2020 | Last Updated: 2 months ago

  کراچی پولیس نے پچھلی 3 دہائیوں میں شہر میں ہر قسم کے جرائم ہوتے ہوئے دیکھے ہیں اور بڑے بڑے ٹارگٹ کلرز اور دہشتگردوں کو پکڑا بھی ہے لیکن سال 2020ء اس ملک کے باقی شہروں کی طرح کراچی میں بھی ایک ایسا خطرہ ساتھ لایا جس کو قابو کرنا کالی وردی والوں کیلئے بہت مشکل ثابت ہورہا ہے۔

فروری 26 کو پاکستان میں پہلے دو کرونا وائرس کے کیس رپورٹ ہوئے اور ان میں سے ایک مریض کا تعلق کراچی سے تھا جو حال ہی میں ایران سے واپس اپنے گھر پہنچا تھا۔

کچھ ہی ہفتوں بعد 23 مارچ کو کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے سبب سندھ حکومت نے صوبہ بھر میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا، جس کے بعد کراچی سمیت پورے سندھ میں تمام تعلیمی ادارے، مارکیٹس، شاپنگ سینٹرز، ریسٹورانٹس اور دیگر عوامی مقامات بند کردئیے گئے۔

صوبہ بھر کی پولیس کو یہ احکامات جاری کئے کہ وہ لوگوں کو بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے سے روکیں اور لاک ڈاؤن کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ لیکن کراچی شہر میں لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنا پولیس کیلئے ایک مشکل کام ثابت ہورہا ہے۔

پولیس افسران کہتے ہیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کرونا وائرس کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ شہر میں جگہ جگہ لگے ناکوں پر پولیس اہلکار کاروں اور موٹرسائیکلوں کو روکتے ہیں، چہرے پر ماسک لگانے کو کہتے ہیں اور گھر جانے کی تلقین کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔

کراچی کی بڑی سڑکیں تو لاک ڈاؤن کے دوران خالی رہتی ہیں لیکن علاقوں کے اندر لوگوں کی بڑی تعداد اکثر دکھائی دیتی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ناظم آباد، کراچی کا ایک گنجان آباد علاقہ ہے یہاں شام کے تقریباً ساڑھے 5 بجے سڑکیں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے بھری پڑی ہیں، یہاں ایک سڑک پر چار پولیس اہلکار ایک طرف بیٹھے ہیں اور آنے جانے والی گاڑیوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ان چار پولیس اہلکاروں میں سے ایک ادھیڑ عمر اہلکار موٹر سائیکلوں پر آتے جاتے لڑکوں پر چیخ رہا ہے۔

سماء ڈیجیٹل نے جب اس سے پوچھا کہ لاک ڈاؤن میں کام کرنا اس کیلئے کتنا مشکل ہے؟، یہ سوال سن کر وہ اہلکار غصے میں آگیا اور کہنے لگا ’’ہم تھرڈ کلاس لوگ ہیں، جاؤ ہمارے افسران سے بات کرو کیونکہ میں اپنی نوکری نہیں گنوانا چاہتا‘‘۔

کراچی کے دیگر علاقوں میں پولیس اہلکار کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کی نوکری کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔ گلشن اقبال میں ایک جوان پولیس اہلکار شرجیل کا کہنا ہے کہ پہلے وہ 8 گھنٹے کام کیا کرتا تھا لیکن لاک ڈاؤن کے بعد اب 10 سے بھی زیادہ گھنٹے ڈیوٹی دینا پڑتی ہے۔

شرجیل نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ وہ اور اس کے ساتھی اہلکار لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر لوگوں کو گرفتار کرنے میں کتراتے ہیں۔ ’’کچھ لوگوں کے پاس گھروں میں کھانا نہیں ہے وہ اس لئے باہر نکلتے ہیں اور یہ بات ہم سمجھتے ہیں لیکن یہاں ایسے بھی لوگ ہیں جو تفریح کیلئے گھرں سے نکلتے ہیں‘‘۔

سندھ پولیس کی رپورٹس کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران اب تک صرف کراچی میں پولیس نے 1278 لوگوں کو حراست میں لیا ہے تاہم پولیس افسران کا کہنا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر ہر راہ چلتے شخص کو نہیں پکڑتے۔

کراچی پولیس کے ایک سینیئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو وارننگ دے کر گھر جانے کو کہہ دیا جاتا ہے۔ اس پولیس افسر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ سڑکوں پر ڈیوٹی دیتے یہ سپاہی بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں اور انہیں بھی کرونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ان سپاہیوں کو بھی وائرس سے ڈر لگتا ہے، آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ کیوں منہ کو ماسک سے ڈھکتے ہیں؟، کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ یہ روزانہ کی بنیاد پر لوگوں سے ملتے جلتے ہیں اور اس سے ان کی جان بھی خطرے میں پڑسکتی ہے‘‘۔

پچھلے ماہ کے آخری ہفتے میں کراچی کے ساؤتھ ڈسٹرکٹ میں تعینات ایک انسپکٹر میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور سندھ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کی ویلفیئر برانچ انسپکٹر اور ان کے گھر والوں کا خیال رکھ رہی ہے۔

شہر میں جگہ جگہ رکاوٹیں لگا کر بند کی گئیں سڑکیں کچھ سابق پولیس افسران کو 90ء کے دہائی کے آپریشن کی بھی یاد دلاتی ہیں۔ آصف رزاق حال ہی میں تقریباً 3 دہائیوں کی نوکری کے بعد سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں کرفیو لگا کرتے تھے لیکن وہ ایک یا دو دن کی بات ہوتی تھی لیکن موجودہ حالات کرفیو جیسے نہیں ہیں اور یہ لاک ڈاؤن بھی کافی لمبا ہے۔

آصف رزاق کہتے ہیں کہ ’’کراچی جس کی آبادی 22 ملین سے زیادہ ہے یہاں پولیسنگ ویسے ہی ایک مشکل کام تھا لیکن لاک ڈاؤن نے اسے مزید مشکل بنادیا ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر لوگ اکثر پولیس سے خائف رہتے ہیں اور موجودہ صورتحال میں روک ٹوک سے شاید وہ مزید خائف ہورہے ہیں۔

آصف رزاق کہتے ہیں کہ کراچی کے لوگوں کو پولیس اہلکاروں کی عزت کرنی چاہئے کیونکہ سڑکوں پر کھڑے یہ اہلکار اپنی پرواہ کئے بغیر نوکری کررہے ہیں۔ ’’یہ کورونا وائرس ایک بلکل نئی چیز ہے جس کے بارے میں پولیس کچھ نہیں جانتی لیکن دیکھیں وہ پھر بھی اپنی نوکری کررہے ہیں‘‘۔

شہر کے لوگ پولیس کی ہدایات کو تو نظر انداز کردیتے ہیں لیکن سڑکوں پر نکلیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں کھڑے رینجرز کے جوانوں کو ہر شخص سنجیدگی سے سنتا ہے۔ سوشل میڈیا پر آئے دن ایسی ویڈیوز سامنے آتی ہیں جس میں پولیس یا رینجرز اہلکار لڑکوں پر تشدد کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

فوٹو: روحان احمد

کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں چوک پر کھڑے ایک رینجرز اہلکار وقاص جو کہ گلگت کے رہنے والے ہیں، انہوں نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ لوگ ان کی ہدایات کو بلکل نظر انداز نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمارا یہاں ہولڈ ہے، ہماری بات نہیں مانتے تو ہم ڈنڈے سے مارتے ہیں‘‘۔

پولیس افسران یہ بھی کہتے ہیں کہ جمعہ کا دن خاص طور پر اہلکاروں کیلئے ایک امتحان کی طرح ہوتا ہے۔ واضح رہے ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائد ہے جس کی کچھ مذہبی شخصیات مخالفت کرتی بھی نظر آتی ہیں۔

گزشتہ جمعہ (3 اپریل) کو لیاقت آباد 8 نمبر کے علاقے کی مسجد غوثیہ میں پابندی کے باوجود نماز جمعہ باجماعت پڑھائی گئی۔ لیاقت آباد پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او لیاقت حیات نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ جب پولیس مسجد کے باہر پہنچی تو لوگوں نے اہلکاروں پر حملہ کردیا، جس کے باعث 2 اہلکار پتھر اور ڈنڈے لگنے کی وجہ سے زخمی ہوگئے۔

انسپکٹر لیاقت کہتے ہیں کہ پولیس وہاں لوگوں کو سمجھانے پہنچی تھی کہ نماز جمعہ کے اجتماعات سے علاقے میں کرونا وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے، جس سے نمازیوں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی کچھ لوگوں نے پولیس پر حملہ کردیا۔

انسپکٹر لیاقت نے مزید کہا کہ پولیس نے حملے کا مقدمہ درج کرنے کے بعد مسجد کے پیش امام سمیت 7 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حملے میں علاقہ مکین ملوث ہی نہیں تھے بلکہ کچھ شرپسند عناصر اس حملے کے پیچھے تھے، جن کا مقصد شہر میں قائم امن کو خراب کرنا تھا۔ یہاں انہوں نے ان “شرپسند” عناصر کا نام تو نہیں لیا لیکن اشارہ ان کا ایک مذہبی جماعت کی جانب تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
CORONAVIRUS, COVID-19, PAKISTAN, IRAN, CHINA, US, ITALY, FRANCE, SPAIN, HEALTH, WHO, PM, IMRAN KHAN, KARACHI, POLICE, RANGERS, LOCKDOWN
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube