ہوم   > پاکستان

سندھ،بلوچستان،وفاق اور پنجاب میں نمازجمعہ کےبڑےاجتماعات پرپابندی

SAMAA | - Posted: Mar 27, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago
SAMAA |
Posted: Mar 27, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago

سندھ اور بلوچستان حکومت نے نماز جمعہ کے بڑے اجتماعات سمیت تمام باجماعت نمازوں میں مسجد کے عملے کے علاوہ دیگر تمام افراد کی شرکت پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ پابندی 27 مارچ سے 5اپريل تک جاری رہے گی تاہم مسجد کا عملہ اس سے مستثنیٰ ہوگا۔

سندھ

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے سماء سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کی مساجد میں بروز جمعہ 27 مارچ سے ہر نماز میں باہر سے نمازیوں کی آمد پر پابندی ہوگی۔ صرف مسجد کا عملہ اور وہاں اندر موجود افراد ہی نماز ادا کرسکیں گی۔ صرف 3 سے 5 افراد کو نماز ادا کرنے کی اجازت ہوگی۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ 27 مارچ سے 5 اپریل تک مساجد بند نہیں ہونگی، صرف عملے کو نماز کی اجازت ہوگی، جس میں امام اور موذن سمیت خادم اور دیگر افراد شامل ہیں۔ یہ اقدام نمازیوں کی صحت اور جان کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اس فیصلے کے لیے علمائے کرام اور طبی ماہرین سے مشاورت کی گئی اور اس کے بعد اس کا اعلان کیا گیا۔ علما نے مشورہ دیا ہے کہ اس حوالے سے احتیاط کی جائے۔

مفتی اعظم پاکستان تقی عثمانی نے اس فیصلہ کی تائید کردی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نمازی محدود کر سکتی ہے، رياست کو تعداد محدود کرنے کا اختيار ہے۔

بلوچستان

دوسری جانب بلوچستان حکومت نے اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے نماز جمعہ کے بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلوچستان حکومت کے مطابق ہر نماز میں 3 سے 5 نمازی ہی شریک ہونگے۔ نماز میں پیش امام کے علاوہ 3 سے 5 نماز شریک ہونگے۔ ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق مساجد کھلی رہیں گی تاہم اس میں نمازیوں کی تعداد محدود ہوگی۔ لوگ گھروں پر نماز ادا کریں۔

ایڈیشنل سیکریٹری بلوچستان کے مطابق پابندی کا فیصلہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق پابندی کا اطلاق مندر، گرجا گھر اور گردورہ پر بھی ہوگا۔ محکمہ داخلہ کے مطابق یہ پابندی وبائی امراض ایکٹ 2014 کے سیکشن 3 کے تحت لگائی گئی ہے۔

پنجاب

اوقاف آرگنائزیشن پنجاب نے صوبے بھر میں کرونا وائرس سے بچنے کے لیے نمازِ جمعہ کے لیے ہدایات جاری کر دیں۔ اوقاف آرگنائزیشن پنجاب کا اپنے اعلامیے میں کہنا ہے کہ نماز جمعہ کے اجتماعات میں عمر رسیدہ، بیمار اور بچے نہ جائیں۔ نمازِ جمعہ کے اجتماع میں کم از کم ایک صف کا فاصلہ رکھا جائے۔ پنجاب بھر کی مساجد ميں صرف 3سے 5افراد نماز جمعہ ادا کريں گے۔ باقی شہری گھروں ميں نماز پڑھيں۔ نماز جمعہ اور پنجگانہ نماز ميں خطيب، امام اور مؤذن شريک ہونگے۔ علماء کی رہنمائی اور طبی ماہرين کی ہدايت کے مطابق فيصلہ کيا ہے۔

اسلام آباد

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے نماز جمعہ کیلئے جاری ہدایات کے مطابق اسلام آباد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے ضلعی انتظامیہ کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ خطیب اور مسجد کا عملہ ہی مساجد میں آئے۔ لوگ گھروں میں نماز پڑھیں، دفعہ 144میں بلاجواز گھومنے پر پابندی ہے۔ بغیر شناختی کارڈ کے باہر نکلنا سختی سے منع ہے۔


واضح رہے کہ چيئرمين اسلامی نظرياتی کونسل قبلہ اياز نے کہا تھا کہ جمعہ کی نماز ميں بزرگ اور بچے نہ آئيں،علماء کی جانب سے جاری اعلاميہ جامع ہے۔ قبلہ اياز نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان ميں جمعہ کی نماز پر پابندی لگانا قابل قبول نہيں،اگر کرفيو ہوتوعلمائے کرام توڑنے کی اجازت نہيں ديں گے۔

اس سے قبل،جمعرات کی شام اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرمذہبی امور نور الحق قادری نے کہا تھا کہ مساجد کو بند نہیں ہونے دیں گے،مساجد میں باجماعت نماز کو محدود کیا جائے گا۔ وزیر مذہبی امور نے کہا تھا کہ ضعیف،بیمار، نابالغ بچے گھروں میں نماز ادا کریں۔

نورالحق قادری کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر کی مساجد میں بڑے اجتماعات ختم کردیے گئے ہیں، حکومت نے فی الحال حج معاہدے روک دیے ہیں۔

مصر کی جامعہ الازہر نے فتویٰ جاری کیا تھا کہ مسلمان حکومت باجماعت نماز اور نمازجمعہ منسوخ کرسکتی ہے۔ فتویٰ ميں کہا گيا کہ بوڑھے افراد گھروں ميں رہيں اور باجماعت اور جمعہ کی نماز ميں شرکت نہ کی جائے۔ شيخ الازہر نے صدرمملکت عارف علویٰ کی درخواست پر يہ فتویٰ جاری کيا تھا۔

خیال رہے کہ بدھ کو کراچی کےگورنر ہاؤس میں علمائے کرام کا خصوصی اجلاس ہوا تھا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ مساجد ميں جمعہ اور باجماعت نمازجاری رہے گی،عوام وضو گھر پر کريں، سنتيں بھی گھر پر ادا کريں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube