ہوم   > پاکستان

ملک بھرکےتعلیمی ادارے31مئی تک بند رکھنے کافیصلہ

SAMAA | - Posted: Mar 26, 2020 | Last Updated: 1 week ago
SAMAA |
Posted: Mar 26, 2020 | Last Updated: 1 week ago

فوٹو : اے ایف پی

وفاقی حکومت نے کرونا وائرس پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر ملک بھر کے تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کرلیا، وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جلد بڑے اقدامات کا اعلان کرنے جارہے ہین، کروناوائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے سفری پابندی عائد کی گئی، یہی ہمارا بہترین ہتھیار ہے، مہلک وائرس کا پھیلاؤ روکنا حکومت اور عوام سب کی ذمہ داری ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے اور وفاقی وزراء نے کرونا وائرس سے بچاؤ اور موجوہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومتی اقدامات کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 1100 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 8 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد صحتیاب ہوچکے ہیں، سیکڑوں مشتبہ مریض ملک بھر کے آئسولیشن اور قرنطینہ سینٹرز میں زیر نگرانی ہیں۔

ملک کے بیشتر علاقوں میں لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے، ملکی و غیر ملکی پروازیں معطل اور بھارت، افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدیں بھی بند کی جاچکی ہیں، مقامی انتظامیہ کی مدد کیلئے فوج کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ وباء سے نمٹنے کيلئے قومی حکمت عملی کے تحت چل رہے ہيں، پھيلاؤ روکنے کيلئے سفری پابندی عائد کی گئي، یہی ہمارا بہترين ہتھيار ہے، مرض کا پھيلاؤ روکنا صرف حکومت کا نہيں، عوام کا بھی کام ہے، یہ سب کی قومی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ طبی عملہ ہراول دستے کا کردار ادا کررہا ہے، ڈاکٹر، نرسز اور پيراميڈيکل اسٹاف ہمارے مجاہد ہيں، ميڈيکل اسٹاف کے تحفظ کو بھی یقینی بنايا جارہا ہے، حکومت نے ملکی تاريخ کے بڑے معاشی پيکیج کا اعلان کيا ہے، اس پر عملدرآمد کیلئے خصوصی ٹيم کام کررہی ہے، پيکیج پر عملدرآمد کیلئے صوبوں کو بھی اعتماد ميں ليا جارہا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے ملک بھر کے تعليمی ادارے 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، ٹرانسپورٹيشن سے متعلق مسائل پر کل اجلاس ميں غور ہوگا، مختلف صوبے اور سياسی جماعتيں مل کر کام کررہی ہیں۔

سندھ حکومت پہلے ہی صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں 31 مئی تک گرمیوں کی چھٹیاں کرنے کا اعلان کرچکی ہے جبکہ بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی تعلیمی ادارے اپریل تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

لاک ڈاؤن کی صورتحال میں اشیائے ضروریہ کی قلت، ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی سے متعلق اسد عمر کا کہنا تھا کہ زيادہ خريداری کی وجہ سے آٹے کی قيمت بڑھی، ملک ميں آٹے کی کوئی قلت نہيں، گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، بدقسمتی سے کچھ لوگ موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھا رہے ہيں، موجودہ حالات ميں ذخيرہ اندوزی کرنے والا بڑا مجرم ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزيراعظم عمران خان کل يا پرسوں دو بڑے اقدامات کا اعلان کرنے جارہے ہيں، عوام پريشان نہ ہوں، کسی چيز کوئی کمی نہیں ہوگی۔

وزیر اعظم عمران خان پورے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نہ کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے زیادہ لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube