ہوم   > پاکستان

جمعہ کےاجتماعات جاری رہیں گے،علمائےکرام

SAMAA | - Posted: Mar 26, 2020 | Last Updated: 1 week ago
SAMAA |
Posted: Mar 26, 2020 | Last Updated: 1 week ago

چيئرمين رويت ہلال کميٹی مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ جامع الازہرکے فتویٰ پر اتفاق رائے نہیں ہوا،اسلامی شعائر کو معطل نہيں کيا جاسکتا۔وزیرمذہبی امور نے کہا ہے کہ مساجد میں باجماعت نماز کو محدود کیا جائے گا۔

 اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرمذہبی امورنورالحق قادری نے کہا  کہ مساجد کو بند نہیں ہونے دیں گے،مساجد میں باجماعت نماز کو محدود کیا جائے گا۔ وزیر مذہبی امور نے کہا کہ ضعیف،بیمار، نابالغ بچے گھروں میں نماز ادا کریں۔

نورالحق قادری کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر کی مساجد میں بڑے اجتماعات ختم کردیےگئےہیں، حکومت نےفی الحال حج معاہدےروک دیےہیں۔

 اس کے علاوہ سماء سے بات کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ نماز جمعہ سمیت دیگر نمازوں میں سنتیں اورنوافل گھرمیں اداکی جائیں، مساجد لاک ڈاؤن نہیں ہوں گی،جمعہ کےاجتماعات بھی جاری رہیں گے۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ضعیف،بیمار،نابالغ بچے گھروں میں ہی نماز ادا کریں۔طاہراشرفی کا کہنا تھا کہ مساجد میں صرف فرض نمازاداکی جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ گھر سے وضو کرکے مسجد پہنچیں،اردو خطبہ ختم، عربی خطبہ مختصر کردیا گیا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ جمعہ کیلئے نمازی جائے نماز ساتھ لے کر مسجد پہنچیں۔

عالم دين مفتی نعيم نے سماء کو بتايا کہ بہترہےحالات ٹھيک ہونےکاانتظارکياجائے،50 سال سے زائد عمر والے افراد نماز گھرميں پڑھ ليں،حکومت کوئی فيصلہ کرے گی توعلماء کواعتراض نہیں ہوگا۔

مصرکی جامعہ الازہرنے فتویٰ جاری کیا تھا کہ مسلمان حکومت باجماعت نمازاورنمازجمعہ منسوخ کرسکتی ہے۔فتویٰ ميں کہا گيا کہ بوڑھے افراد گھروں ميں رہيں  اورباجماعت اور جمعہ کی نماز ميں شرکت نہ کی جائے۔ شيخ الازہر نے صدرمملکت عارف علویٰ کی درخواست پر يہ فتویٰ جاري کيا تھا۔

واضح رہے کہ بدھ کو کراچی کے گورنر ہاؤس میں علمائے کرام کا خصوصی اجلاس ہوا تھا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ مساجد ميں جمعہ اور باجماعت نمازجاری رہے گی،عوام وضو گھر پر کريں، سنتيں بھی گھر پر ادا کريں۔

علمائے کرام کا کہنا تھا کہ بیمار اور50 سال کےاوپر شہری مسجد نہ آئیں،بچوں کو بھی مساجد ميں نہ لائيں، مساجد ميں سينيٹائزر بھی لگائے جائيں۔

متفقہ اعلامیہ سے آگاہ کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا تھا کہ اب سے نماز جمعہ کيليے مختصر خطبہ ديا جائے گا اور نماز کی ادائيگی کے بعد نمازی فوراً گھر روانہ ہوجائيں۔

اس موقع پر مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی نے کہا تھا کہ کرونا وائرس کا مسئلہ اہمیت اختیار کرگیا ہے لیکن کوئی بھی بیماری اللہ کی مصلحت کے بغیر نہیں لگتی، وبائیں درحقیقت اللہ کی طرف سے آتی ہيں،انفرادی اور اجتماعی غلطیوں کی اللہ سے معافی مانگیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube