ہوم   > پاکستان

مبینہ را ایجنٹوں سےتفتیش کیلئے جے آئی ٹی کی سفارش

SAMAA | - Posted: Mar 25, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Mar 25, 2020 | Last Updated: 2 months ago

کراچی پولیس چیف نے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلق کے الزام میں گرفتار ملزمان سے تفتیش کے لیے آئی جی سندھ سے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست کردی جس پر ائی جی سندھ نے محکمہ داخلہ کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی سفارش کی ہے۔

ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے آئی جی سندھ کو خط لکھتے ہوئے درخواست کی ہے کہ 19 مارچ کو کراچی سے را کا نیٹ ورک چلانے والے ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان سے تفتیش کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے۔

آئی جی سندھ محکمہ داخلہ کو جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کردی ہے جس میں پولیس اور دیگر قانون فافذ کرنے والے اداروں کے افسران سمیت ایف آئی اے کے اہلکار بھی شامل ہوں گے۔

ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے 19 مارچ کو کراچی میں نیوز کانفرس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس نے انٹیلی جنس ایجنسی کی مدد سے را کے دہشت گرد ونگ کے سربراہ شاہد عرف متحدہ کو 2 ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے اسلحہ و بارود برآمد کرلیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک سے منسلک تھا، ملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے تھا، ملزم را کا دہشت گرد نیٹ کراچی میں چلا رہا تھا۔ ملزم کوحوالہ ہنڈی کے ذریعے رقم بھارت سے ملتی تھی۔ ان کرپٹڈ ای میل کے ذریعے ملزم کو رقم کس کو پہنچانی ہے بتایا جاتا تھا، یہ لوگ دہشت گردوں کو بھی رقم فراہم کرتےتھے۔

غلام نبی میمن نے بتایا کہ یہ لوگ یہاں کی انٹیلی جنس معلومات بھارت میں محمود صدیقی کو دیتے تھے اور لوگ پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کام کرنے والوں کی معلومات بھی بھارت پہنچاتے تھے۔

ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ ان لوگوں نے جو فنڈنگ کی وہ دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے، عمران فاروق کیس میں ان لوگوں نے خالد شمیم کو فنڈنگ کی۔ 2009 میں محرم میں دھماکا ہوا تھا، اس گروپ نے اس کی فنڈنگ کی تھی، کراچی میں سیریز بم چلے تھے، اس گروپ کی فنڈنگ بھی انہوں نے کی تھی۔

غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ را کے کراچی چیپٹر دہشت گرد ونگ کو کافی عرصے سے مانیٹر کر رہے تھے۔ بڑی گرفتاری ہے حکومت سے جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کریں گے۔ اس کیس میں ٹیرر فنانسنگ بھی شامل ہے چاہیں گے کیس آگے چلے۔

انہوں نے بتایا کہ تینوں ملزمان سرکاری ملازمین تھے، ایک واٹر اینڈ سیوریج میں گریڈ 17 کا ملازم تھا۔ دوسرے ملزم کا تعلق کے ایم سی اور تیسرا کراچی یونیورسٹی میں ملازم تھا۔

غلام نبی میمن کے مطابق ملزمان کے دیگر ساتھی بھی ہیں جو سلیپر سیلزکی صورت میں ہیں، یہ پڑھےلکھے اور را سے تربیت حاصل کر چکے ہیں، اسلحہ چلانے کے ماہر ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ اس گروپ کے ٹاسک میں شامل تھا کراچی میں امن نہ ہو، اس گروپ کا زیادہ کام ٹیرر فنانسنگ،ٹاسک دینا، انفارمیشن آگے پہنچانا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube