ہوم   > پاکستان

پاکستان:سرحدیں بنداورفلائٹ آپریشن محدود کرنیکافیصلہ،رائٹرز

SAMAA | - Posted: Mar 14, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 14, 2020 | Last Updated: 2 months ago

سلامتی کونسل کے جمعہ کے روز ہونے والے اجلاس میں اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے ملکی سرحدیں بند اور بین الاقوامی فلائٹ آپریشن محدود کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے کہ پاکستان 15 روز کیلئے بین الاقوامی فلائٹ آپریشن محدود کر رہا ہے، یہ فیصلہ عالمی وبا کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ اعلان اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس کے بعد سامنے آیا۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے رائٹرز کا مزید کہنا تھا کہ ملکی سرحدیں 15 روز کیلئے بند کی جائیں گی۔ جب کہ بین الاقوامی پروازیں صرف کراچی، لاہور اور اسلام اباد ایئرپورٹس سے ہی میسر ہوسکیں گی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اب تک 21 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق 2 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ دیگر ممالک میں وائرس سے متاثر ہونے اور مرنے والوں کی تعداد الگ ہے، جب کہ اٹلی میں وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے۔

ماسک

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماسک کا استعمال ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ ایک طرح کی جھوٹی تسلی ہے اور ہماری عوام کو عادت نہیں ہے کہ وہ مسلسل ماسک پہنے رکھے۔ بار بار پہننے اور اتارنے سے حاصل کچھ نہیں ہوتا۔

وضاحت

بیشتر پاکستانی میڈیا بشمول سماء ڈیجیٹل 13 مارچ کی دوپہر تک سندھ کے کل تصدیق شدہ کیسز میں ایک کیس بڑھا کر بیان کررہا تھا، جس سے ملک کے کل کیسز میں بھی ایک کا فرق آرہا تھا اور اس کی وجہ سندھ حکومت اور کراچی آغا خان کے مابین تعداد کے حوالے سے غلط فہمی تھی۔

یہ فرق 9 مارچ کو پیدا ہوا تھا جس دن کراچی میں کل 8 کیسز سامنے آئے تھے لیکن اسے حکومت کی جانب سے 9 بتایا گیا تھا تاہم 13 مارچ کی شام حکومت کے متعلقہ حکام نے وضاحت کردی کہ اس دن ایک کیس زیادہ شمار کر لیا گیا تھا، لہٰذا سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ اب تک کے کل کیسز 16 نہیں بلکہ 15 ہیں، ان میں وہ 2 افراد بھی شامل ہیں جو صحتیاب ہوجانے کے باعث اسپتال سے فارغ کئے جاچکے ہیں۔

کیسز کی تعداد
پاکستان: 21
سندھ: 15
گلگت: 3
اسلام آباد: 2
بلوچستان: 1
خیبرپختونخوا: 0
پنجاب: 0
وائرس سے متاثرہ افراد کو سندھ کے 10 اسپتالوں کے آئیسولیشن وارڈز میں رکھا جا رہا ہے جن کے نام درج ذیل ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی اسپتال کراچی
جناح اسپتال کراچی
ڈاؤ اوجھا کیمپس کراچی
سول اسپتال کراچی
لیاری جنرل اسپتال کراچی
لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدر آباد
پیپلز میڈکل کالج اسپتال نواب شاہ
سول اسپتال میرپور خاص
غلام محمد مہر میڈیکل کالج سکھر
چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال لاڑکانہ

احتیاطی تدابیر


کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھوں کو دھوتے رہیں۔ کھانا پکاتے وقت، جانور کو چھونے کے بعد، کسی بیمار سے ملنے کے بعد، چھینکنے اور ناک صاف کرنے بعد بھی ہاتھ دھونا ضروری ہے۔
ہاتھ دھونے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے 20 سیکنڈ تک صابن ہاتھ پر لگائیں اور پھر دھو لیں۔
اگر گھر سے باہر ہیں تو سینیٹائزر کا استعمال کریں جس میں 60 فیصد الکاہول موجود ہو۔
منہ، ناک اور ہونٹوں پر ہاتھ نہ لگائیں کیونکہ جراثیم وہیں سے پھیلنا شروع ہوتے ہیں۔

ایمرجنسی اس صورت میں ہوگی جب آپ چین، ایران یا کسی بھی کرونا وائرس سے متاثرہ ملک سے واپس پاکستان آ رہے ہوں۔

علامات

کھانسی، چھینک، بخار اور سانس لینے میں تکلیف شامل ہے۔
ایمرجنسی ہیلپ لائنز
ایمرجنسی کی صورت میں دیے گئے نمبرز پر رابطہ کرسکتے ہیں۔
سندھ ہیلپ لائنز: 02199203443، 02199204405
خیبر پختونخوا: 1700
ہیلپ لائن فیڈرل: 1166

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube