Wednesday, November 25, 2020  | 8 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

صحافی عزیز میمن قتل کیس کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

SAMAA | - Posted: Mar 6, 2020 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 6, 2020 | Last Updated: 9 months ago

سندھی نیوز چینل کے صحافی عزیز میمن کے قتل کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) بنادی گئی مگر ٹیم کی سربراہی ایک ایسے پولیس افسر کریں گے جو پہلے ہی قتل کو طبعی موت قرار دے چکے ہیں۔

کے ٹی این کے رپورٹر عزیز میمن کی لاش 16 فروری کو سندھ کے ضلع نوشہروفیروز کے علاقے محراب پور نہر سے ملی تھی مگر پولیس نے تاخیر سے ناملوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد اب تک کیس میں پیش رفت نہیں دکھائی جس پر اہل خانہ نے جے آئی ٹی کا مطالبہ کیا۔

جمعہ کو سندھ حکومت نے قتل کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دے کر پندرہ دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ جے آئی ٹی کا سربراہ ایڈیشنل آئی جی پولیس حیدرآباد ولی اللہ دل کو بنا دیا ہے جو پہلے ہی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں عزیز میمن کی موت کو طبعی قرار دے چکے ہیں۔

گزشتہ روز قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین راجا خرم شہزاد کی سربراہی میں ہوا جس نے صحافی کی موت پر سندھ پولیس سے جواب طلب کر رکھا تھا۔ ایڈیشنل آئی جی ولی اللہ نے کمیٹی کے روبرو پیش ہوکر بتایا کہ میڈیکل رپورٹ میں صحافی عزیز میمن کے قتل کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

ایڈیشنل آئی جی نے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا کہ قتل کی ایف آئی آر بھی صحافیوں کے دباؤ پر درج کی گئی۔ کمیٹی کے چیئرمین نے عزیز میمن کی تمام رپورٹس کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

اجلاس کے بعد ایڈیشنل آئی جی نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔ ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے عزیز میمن کی آخری ویڈیو میں لیے جانے والے ناموں سے پوچھ گچھ کی ہے۔ دوسرے صحافی نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنی پوسٹنگ کی وجہ سے جواب دینے سے گھبرا رہے ہیں۔

دوسری جانب مقتول صحافی کے بھائی حفیظ میمن کا کہنا ہے کہ پولیس نے قاتلوں کو پکڑنے اور محرکات کا پتا لگانے کیلئے ابھی تک کوئی تفتیش نہیں کی۔ پولیس نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے دباؤ کو کم کرنا چاہتی ہے۔ عزیز میمن کو جن سے خطرہ تھا وہ اپنے وڈیو بیان میں آگاہ کرچکے ہیں۔

عزیز میمن کی ایک ویڈیو کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا بلاول بھٹو کے جلسے میں پیسے دیکر خواتین کو بلانے کی خبر چلانے کے بعد ان کو قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں جس کی وجہ سے وہ اسلام آباد فرار ہوگئے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube