ہوم   > پاکستان

مغوی بچی پیش کرنے کیلئے سرفرازبگٹی کو دوہفتے کی مہلت

SAMAA | - Posted: Mar 4, 2020 | Last Updated: 3 months ago
Posted: Mar 4, 2020 | Last Updated: 3 months ago

بلوچستان ہائی کورٹ نے مغوی بچی ماریہ کی بازیابی کے لیے سابق صوبائی وزیر داخلہ اور سینیٹر سرفراز بگٹی کو دو ہفتوں کی مہلت دیدی۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس عبداللہ بلوچ نے ماریہ اغواء کیس میں نامزد سابق صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ سینیٹر سرفراز بگٹی اور کیس کی مدعیہ عدالت میں پیش ہوئیں۔

دوران سماعت جج عبداللہ بلوچ کی جانب سے مغوی بچی کے متعلق استفسار پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بتایا کہ بچی ماریہ کی تاحال بازیابی عمل میں نہیں آسکی۔ کوشش جاری ہے۔

جسٹس عبداللہ بلوچ نے سینیٹر سرفراز بگٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ اس کیس میں اپنا کردار ادا کریں۔ لوگوں کوآپ سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ آپ کو اس کیس کے حوالے سے دو ہفتے کا ٹائم دیا جاتا ہے۔ آپ معاملے کو حل کریں۔ امید ہے آئندہ پیشی پر جب آپ آئیں گے تو معاملے میں مثبت پیش رفت ہوگی۔

بچی کی نانی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں ملزم طوق علی کی جانب سے بچی کو تین سال تک پاس رکھنے کی مشروط پیشکش کی گئی۔ اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ بعد کا ہے۔ پہلے بچی کی بازیابی عمل میں لائی جائے۔ بچی کی مستقل حوالگی عدالتی معاملہ ہے۔ فریقین کے دلائل کے بعد سماعت 18 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

مغوی بچی ماریہ کی نانی یاسمین نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرفراز بگٹی کے قریبی ساتھی سے میری بیٹی کی شادی ہوئی تھی جس سے ماریہ کی پیدائش ہوئی۔ ملزم نے بعد میں میری بیٹی کو قتل کردیا اور عدالت نے کمسن ماریہ کو میرے حوالے کردیا اور اس کے باپ سے عدالت کے احاطے میں ملاقات کروالے کا حکم دیا۔

جب یاسمین بچی کو اس کے باپ سے ملاقات کروانے عدالت لے آئی تو اس کے باپ نے کہا کہ کینٹ میں ملاقات کرتے ہیں۔ وہ بچی کو وہاں لے گیا اور ایک بنگلے میں چلا گیا۔ بنگلے کے گارڈز نے یاسمین کو بتایا کہ یہ سرفراز بگٹی کا گھر ہے۔ یاسمین کے مطابق گارڈز نے ان پر تشدد کرکے زبردستی وہاں سے بھیج دیا اور بچی اب ان کے قبضے میں ہے۔

اس کیس میں عدالت سرفراز بگٹی کی گرفتاری کا حکم بھی دے چکی تھی جس پر وہ عدالت سے فرار ہوگئے تھے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube