ہوم   > پاکستان

زینب الرٹ بل سینیٹ میں منظور

SAMAA | - Posted: Mar 4, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 4, 2020 | Last Updated: 3 months ago

سینیٹ اجلاس میں زینب الرٹ بل منظورکرليا گيا ہے جس کا اطلاق پورے ملک پر ہوگا۔ اپوزیشن کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی، چئیرمین سینیٹ نے کہا کہ بل منظور ہونے دیں ترامیم بعد میں منظور کریں گے۔بل کے تحت بچوں کی گمشدگی کی اطلاع دینے کیلئے 109ہیلپ لائن قائم کی جائے گی،بروقت اطلاع اور ایف آئی آر درج نہ کرنے والے پولیس اہلکار کو2 سال قید اور50 ہزار سے ایک لاکھ جرمانہ عائدکیاجائےگا۔

بدھ کو سینیٹ اجلاس میں زینب الرٹ بل وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے پیش کیا۔ بل کی شق وار منظوری کی گئی۔سینیٹ میں زینب الرٹ بل 2020 منظور کرلیا گیا۔ بل میں ملزمان کی سزاؤں کا تعين بھی کیا گیا ہے۔

بل کے تحت پولیس اہلکار اطلاع پر فوری ایف آئی آر درج کرنے کا پابند ہوگا۔ متن میں یہ بھی درج ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کی سزائیں، سزائے موت سے لے کر عمر قید اور یا پھر زیادہ سے زیادہ 14 سال اور کم سے کم سات سال قید کی سزا رکھی گئی ہے۔

مزید جانیے : سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کی زینب الرٹ بل ميں ترميم کی منظوری

بل کے تحت قومی کمیشن برائے حقوقِ بچگان کا نام تبدیل کرکے ’زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی‘ رکھا گیا ہے۔ بل کے مطابق کسی بھی بچے کے اغوا یا اس کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعہ کا مقدمہ درج ہونے کے 3 ماہ کے اندر اندر اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا ہوگی۔ پولیس کو کسی بچے کی گمشدگی یا اغوا کے واقعہ کی رپورٹ درج ہونے کے 2 گھنٹوں کے اندر اس پر کارروائی کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

اس سےقبل قائمہ کمیٹی سےمنظورکردہ زینب الرٹ بل کی سینیٹ میں جماعت اسلامی اور ن لیگ نے مخالفت کی۔

چئیرمین سینیٹ نے رولنگ دی کہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہوچکا ہے، سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی بھی ترامیم کے ساتھ منظور کرچکی ہے، اگر یہی رویہ رہا تو پھر کوئی بل نہیں لے سکوں گا۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ پاکستان میں بچوں سے زیادتی کے3000 کیسز سامنے آئے،بل میں تجویز کردہ سزاؤں میں عمر قید کو سزاِئے موت میں تبدیل کریں۔

یہ بھی پڑھیں : زینب الرٹ بل قومی اسمبلی نے متفقہ طور پرمنظورکرلیا

سینیٹ اجلاس میں وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ 8 ماہ بل قومی اسمبلی کی کمیٹی میں رہا، پھر سینیٹ کی کمیٹی نے تفصیلی طور پر ترامیم کر کے پاس کیا، اب پوری قوم کی نظر اس بل پر ہے۔

قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی کمسن بچی زینب کے والد امین انصاری نے سینیٹ سے پاس ہونیوالے زینب الرٹ بل پر تبصرہ کرتے ہوئے چاروں صوبائی اسمبليوں سے اپيل کی کہ وہ بچوں سے زيادتی کيخلاف بل جلد سے جلد منظور کريں۔

کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پاکستان کو پورنو گرافی ميں ملوث مجرموں کو بھی سزائے موت دينے کی اپيل کردی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube