Sunday, September 20, 2020  | 1 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

لاہور ہائی کورٹ نے عورت مارچ کی اجازت دیدی

SAMAA | - Posted: Mar 3, 2020 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 3, 2020 | Last Updated: 7 months ago

فوٹو: فائل

لاہور ہائی کورٹ نے عورت مارچ کی اجازت دیتے ہوئے منتظمین کو ہدایت کی ہے کہ غير اخلاقی نعرے اور پلے کارڈز استعمال نہ کریں۔

منگل 3 مارچ کو چیف جسٹس مامون الرشید نے عورت مارچ کےخلاف درخواست پر سماعت کی۔

عورت مارچ کے منتظمین نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے گائيڈ لائینز طے کر رکھی ہیں۔ مارچ آئین اور قانون کے دائرے میں ہوگا۔ منتظمین کے مطابق درخواست آئین کے خلاف تھی اس لیے درخواست گزار پابندی لگانے کے موقف سے ہٹ گئے۔

چيف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین کے تحت عورت مارچ کو روکا نہیں جاسکتا ليکن غير اخلاقی نعرے اور پلے کارڈز نہيں ہونے چاہيئيں۔ عدالت نے پوليس کو مکمل سیکيورٹی دينے کی ہدايت کر دی۔

خواتین کی فریق بننے کی پٹيشن پر درخواست گزار کا کہنا تھا کہ مارچ آئین کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ تاثر دیا جا رہا ہے کہ خواتین پر ظلم ہوتا ہے جس پر چيف جسٹس نے کہا کہ خواتین کے حقوق اس وقت مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ مارچ ہے۔ آپ مارچ پر فوکس کریں۔

پوليس کی جانب سے عدالت کو بتايا گيا کہ کچھ مذہبی تنظيموں کو مارچ پر تحفظات ہيں ليکن شرکاء کو فول پروف سیکیورٹی دی جائے گی۔ درخواست گزار نے کہا کہ عورت معاشرے کا حصہ ہے اور مارچ کر سکتی ہے۔ پولیس کے جواب کے بعد ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

چيف جسٹس نے درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ ہمیں سیکیورٹی کو دیکھنا تھا جس پر پولیس نے رپورٹ دے دی ہے۔

عورت مارچ 8 مارچ کو پریس کلب سے ايجرٹن روڈ تک ہوگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube