Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

کراچی میں ماسک کیوں دستیاب نہیں

SAMAA | - Posted: Feb 27, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 27, 2020 | Last Updated: 2 years ago

پاکستان میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز سامنے آنے کے بعد ماسک کی قیمت میں 16 گناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ پانچ روپے کے سبز سرجیکل ماسک کی قیمت 80 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

سرجیکل ماسک کا پیکٹ عام دنوں میں ایک پیکٹ 200 روپے سے کم میں مل جاتا ہے مگر جمعرات کی شام تک مارکیٹ میں ماسک دستیاب نہیں تھے اور جن اکا دکا دکانوں پر دستیاب تھے وہاں پیکٹ 1800 روپے کا فروخت ہورہا تھا۔

ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کا ہوا کے ذریعے پھیلاؤ کے بارے میں کوئی شواہد دستیاب نہیں، یہ عام طور پر کھانسی یا چھینک کے ذریعے دوسرے فرد تک منتقل ہوجاتا ہے۔

اس کے باوجود کراچی کے پرائیویٹ اور سرکاری اسپتالوں کے اطراف میڈیکل اسٹورز پر ماسک ختم ہوگئے ہیں جس کے باعث اسپتالوں کو بھی ماسک کی کمی کا سامنا ہے۔

حسین آباد میں واقع ایک ڈسپنسری کے مالک نے بتایا کہ ماسک فروخت کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ کیوں کہ ہمیں مارکیٹ سے مہنگا مل رہا ہے اور جب اسے عوام کو مہنگا فروخت کرتے ہیں تو متعلقہ حکام ہمارے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔ اگر فروخت نہیں کرتے تو کسٹمرز ناراض ہوجاتے ہیں۔

نیو ٹاؤن روڈ پر واقع ایک فارمیسی کے باہر کھڑے لوگوں نے بتایا کہ وہ ماسک کا پیکٹ 1800 میں بھی خریدنے کو تیار ہیں مگر فارمیسی والوں کا کہنا ہے کہ ختم ہوگئے ہیں۔

یہ صورتحال صرف ریٹیل شاپس پر نہیں بلکہ ہول سیل مارکیٹ میں بھی ماسک کی قلت ہے۔ نیو چالی روڈ پر میڈیسن مارکیٹ میں ماسک خریدنے کیلئے عوام کا سمندر امڈ آیا مگر خالی ہاتھ واپس لوٹا۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ جمعرات کی صبح سے مارکیٹ میں ماسک کے حصول کیلئے تین جھگڑے ہوچکے ہیں۔ کسی ایک دکان پر اگر ماسک دستیاب ہو تو اس پر ہجوم اکھٹا ہوجاتا ہے۔

ہول سیل مارکیٹ کی صورتحال کا اثر اسپتالوں پر بھی پڑا ہے۔ سول اسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ عملہ کے استعمال کیلئے بھی ماسک کم پڑگئے ہیں اور مزید ماسک کا آرڈر دیا گیا ہے۔ اس وقت صرف آپریشن تھیٹر کے علاوہ کسی بھی وارڈ یا ایمرجنسی میں اسٹاف کو کیلئے بھی ماسک دستیاب نہیں ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube