ہوم   > پاکستان

بالاکوٹ واقعہ: ‘مجھے گھبرانا چاہیے تھا مگر نہیں گھبرایا’

SAMAA | - Posted: Feb 26, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Feb 26, 2020 | Last Updated: 1 month ago

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بالاکوٹ میں بھارتی بمباری کے وقت ہماری مسلح افواج کے سربراہ نہیں گھبرائے۔ مجھے گھبرانا چاہیے تھا مگر میں بھی نہیں گھبرایا۔ پاک فضائیہ اور آرمی کے سربراہوں نے مجھے حوصلہ دیا۔ ہم نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور اللہ کا شکر ہے کہ حالات نہیں بگڑے ۔

بالاکوٹ پر بھارتی جارحیت کا ایک سال مکمل ہونے پر اسلام آباد میں تقریب منعقد ہوئی جس وزیراعظم عمران خان مہمان خصوصی تھے جبکہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان سمیت وفاقی وزرا نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ27  فروری کو پاک فضائیہ نے دو بھارتی  طیارے مار گرائے۔ بحیثیت پاکستانی اس بحران سے نمٹنے پر بہت فخر تھا۔ اس بحران میں پاکستانی قوم کی سنجیدگی سامنے آئی۔ بحران میں اپنایا گیا رویہ قوموں کی پہچان ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ صبح 3 بجے ایئر چیف کا فون آیا اور بالاکوٹ پر بھارتی بمباری سے آگاہ کیا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ ہلاکتیں ہوئی ہیں یا نہیں۔ ہم اسی وقت جواب دے سکتے تھے لیکن ہم نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ ہمارے سیاست دان اور میڈیا نے بھی سنجیدگی دکھائی اور پھر ہم نے بھارتی پائلٹ واپس کرکے بھی ذمہ دار ملک ہونے کا ثبوت دیا۔

عمران خان نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں نے فاشسٹ نظریہ اپنا لیا ہے۔ دنیا بھر میں فاشزم کی وجہ سے خون خرابہ ہوا۔ اس نظریہ کا اختتام آگ اور خون ہے۔ بھارت نے بھی نازی جرمنی سے متاثر ہوکر آر ایس ایس بنائی اور اب بھارت بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہندوتوا کا نظریہ نفرت کو فروغ دے رہا ہے۔

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف حالیہ فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اتنی بڑی اقلیت کے ساتھ اتنا برا سلوک تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ بھارت تباہی کے راستے پر جارہا ہے اور یہ راستہ بھارت نے اپنے لئے چنا۔

مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت مسلسل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور باہمی معاہدوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ عالمی برادری کو کچھ کرنا ہوگا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے فروری 2019 میں کشیدگی کو فروغ دیا۔ مشرقی ہمسائے کو پیغام ہے کہ دوبارہ جارحیت کی غلطی نہ کریں۔ پاکستان ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ علاقائی مسائل کا حل مذاکرات سے نکالا جاسکتا ہے۔ بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر میں 5 اگست کے بھارتی اقدام نے کشیدگی کو فروغ دیا جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ کشمیر تسلیم شدہ عالمی تنازع ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرا افغان ڈائیلاگ کا مضبوط  وکیل ہے اور29  فروری کو افغان معاہدے پر دستخط ہوں گے۔

کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخرامام نے کہا کہ بھارتی اقدامات سے دو قومی نظریہ سچ ثابت ہوگیا۔ مودی سرکارنے سیکولرازم اور جمہوریت کی دھجیاں اڑادیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر پر پاکستانی قوم متحد ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کے بعد بھارتی اقدامات غیر قانونی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube