ہوم   > پاکستان

سپريم کورٹ ميں فردوس شميم نقوی کے خلاف توہينِ عدالت کی درخواست دائر

SAMAA | - Posted: Feb 26, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 26, 2020 | Last Updated: 3 months ago

اپوزيشن ليڈر فردوس شميم نقوی کوکراچی کے علاقے گلشن اقبال ميں توڑ پھوڑ رُکوانا مہنگا پڑگيا۔سپريم کورٹ ميں فردوس شميم نقوی کے خلاف توہين عدالت کی درخواست دائر کردی گئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سندھ اسمبلی کے اپوزيشن ليڈر فردوس شميم نقوی نے گزشتہ روز عدالتی حکم پر گلشن اقبال ميں توڑی جانے والی عمارت کا کام رکواديا تھا۔

بدھ کو سپريم کورٹ کراچی رجسٹری ميں دائر درخواست ميں فردوس شميم نقوی کو نا اہل قرار دينے اور کام سے روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست ميں يہ بھی کہا گيا ہے کہ فردوس شمیم نقوی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے کيونکہ انہوں نےعدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے جمعہ کو اپوزيشن ليڈر فردوس شميم نقوی تجاوزات کے خلاف آپريشن سے متاثر ہونے والوں کی فرياد ليکر سپريم کورٹ کراچی رجسٹری پہنچے تو سماعت کے دوران مداخلت کرنے پر عدالت نے ان پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چيف جسٹس گلزار احمد نے فردوس شميم نقوی سے استفسار کیا کہ آپ کا کیا مسئلہ ہے، کون ہیں آپ؟ انھوں نے جواب ديا کہ میں فردوس شمیم نقوی پاکستان تحریک انصاف سے ہوں، سرکلرریلوے پربات کرنے آیاہوں۔

چيف جسٹس نے کہا کہ تو آپ کے سیکریٹری یہاں موجود ہیں انہیں بتائیں کیا مسئلہ ہے۔ فردوس شميم نقوی نے کہا کہ وہ اپوزیشن لیڈر ہيں اور عوامی مسئلے پربات کرنے آئے ہيں ۔

چيف جسٹس نے کہا کہ یہ اسمبلی نہیں ہے،آپ یہاں بات نہیں کرسکتے، آپ تو حکومت میں ہیں۔ فردوس شميم نقوی نے جواب ديا کہ سندھ ميں اپوزيشن ميں ہيں۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ سرکلر ريلوے وفاقی سبجیکٹ ہے،آپ اپنی حکومت کے خلاف آگئے؟ آپ اپنی حکومت کو کیوں نہیں بتاتے،ہمیں کیوں بتارہے ہیں، آپ کی حکومت کا مجموعی طور پر یہی حال ہے، عدالت میں کچھ اور باہر کچھ اور کہتے ہیں۔عدالت نے فردوس شميم نقوی کو ہدايت کی کہ یہ بند کمروں کی باتیں ہوتی ہیں،پہلے آپس میں مشاورت کریں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube