ہوم   > پاکستان

احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی کی ضمانت منظور

SAMAA | - Posted: Feb 25, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Feb 25, 2020 | Last Updated: 1 month ago

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنماء احسن اقبال اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ضمانت منظور کرلی۔

منگل 25 فروری کو چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ دونوں رہنماوں کی ضمانت ایک کروڑ روپے مچلکوں کے عوض منظور کی گئی۔

احسن اقبال کی درخواستِ ضمانت نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس اور شاہد خاقان عباسی کی ایل این جی ریفرنس میں منظور کی گئی۔

دوران سماعت چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کوئی ایک ٹھوس وجہ تو بتائیں کیوں احسن اقبال کو قید ہی رکھنا ہے۔ تفتشیی افسر تو کسی بھی طریقے سے انکوائری مکمل کرسکتا ہے اور چاہے تو احسن اقبال کا پاسپورٹ بھی پاس رکھ سکتا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے جواب میں کہا کہ احسن اقبال کے باہر نکلنے سے تو تفتیشی کو بھی خطرات ہوں گے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نیب یہ کیس بنانا چاہتا ہے کہ گرفتاری کےلئے صرف کسی غلطی کا شبہ کافی ہے؟ بےضابطگی یا غلطی کبھی کسی نیک نیتی کا نتیجہ بھی تو ہو سکتی ہے، نیب اس کیس کو بدنیتی کا کیس کیسے ثابت کر سکتا ہے؟

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ احسن اقبال نے خود جا کر منصوبے کی جگہ کا تعین بھی کیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا منصبوے کی جگہ کی نشاندہی کرنے والے کو گرفتار کر لیا جائے گا؟ کیا پاکستان اسپورٹس بورڈ یا حکومت پنجاب سے کسی کو پکڑا گیا؟ حکومت پنجاب سے کیا منصوبہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ہائی جیک نہیں کیا؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں غلطی کسی اور کی تھی، گرفتار کسی اور کو کیا گیا؟

عدالت نے کہا کہ نیب اب بتا دے کہ جب تفتیش بھی ہو چکی اب احسن اقبال کو جیل میں کیوں رکھنا چاہتا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ہم انکوائری کر رہے ہیں کیس کی اس لیے ان کو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے کہا کہ صرف اس لئے آپ کسی کو اڈیالہ رکھنا چاہتے ہیں کہ آپ انکوائری مکمل کر لیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے جواب میں کہا کہ باہر نکل کر احسن اقبال سارا ریکارڈ تباہ کر دیں گے اور احسن اقبال کیخلاف اثاثوں کی انکوائری بھی چل رہی ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ توآپ کے تفتشیی کےلیے بھی مسئلہ ہوگا روز اڈیالہ جا کر تفتیش کرنا، آپ کو خدشہ ہے وہ بھاگ جائیں گے تو نام ای سی ایل میں ڈالیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube