Friday, July 3, 2020  | 11 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

آئین شکنی کیس:خصوصی عدالت کوکالعدم قراردینےکافیصلہ چیلنج

SAMAA | - Posted: Feb 25, 2020 | Last Updated: 4 months ago
Posted: Feb 25, 2020 | Last Updated: 4 months ago

سندھ ہائی کورٹ بار نے آئین شکنی کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو کالعدم قرار دینے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے سابق صدر مشرف کی سزائے موت کا فیصلہ بحال کرنے کی استدعا کردی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کردہ سندھ ہائی کورٹ بار کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کو خصوصی عدالت کے خلاف درخواست سننے کا اختیار نہیں تھا۔

پرویز مشرف کو سزائے موت سنا دی گئی

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ تسلیم شدہ حقائق پر تھا۔

درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل مروجہ قانون کے مطابق ہوئی، لاہور ہائی کورٹ نے حقائق اور قانون کا درست جائزہ نہیں لیا، جب کہ استغاثہ کے شواہد کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ درخواست گزار نے سابق صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کا فیصلہ بحال کرنے کی استدعا بھی کی۔

خصوصی عدالت کا فیصلہ دباؤ کا نتیجہ ہے، وکیل پرویز مشرف

واضح رہے کہ گزشتہ سال 17 دسمبر کو خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر اور آرمی چیف سید پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

پرویز مشرف کسی صورت غدار نہیں ہوسکتے، پاک فوج

خصوصی عدالت کے سربراہ وقار سیٹھ نے آئین شکنی کیس کا فیصلہ سنایا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ سابق صدر مشرف پر آرٹیکل 6 کا جرم ثابت ہوتا ہے۔

تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار سیٹھ نے کہا تھا کہ پھانسی سے قبل اگر پرویز مشرف فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی لاش ڈی چوک لائی جائے اور 3 روز تک وہاں لٹکائی جائے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube