Wednesday, August 5, 2020  | 14 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

ڈیجیٹل حکمت عملی داعش کو القاعدہ سے زیادہ خطرناک بنارہی ہے

SAMAA | - Posted: Feb 22, 2020 | Last Updated: 5 months ago
Posted: Feb 22, 2020 | Last Updated: 5 months ago

فوٹو: رحیم سنجوانی/سماء ڈیجیٹل

داعش اور القاعدہ دونوں ہی دہشت گرد تنظیمیں ہیں لیکن جو چیز داعش کو زیادہ خطرنات بناتی ہے وہ لوگوں خصوصاً نوجوانوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے اعلیٰ ترین ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال ہے۔

یہ بات ترکی کی سکاریہ یونیورسٹی کی لیکچرار، ڈاکٹر اینڈریا اسٹویان کرادیلی نے اپنی تحقیق میں اخذ کی ہے۔

بدھ 12 فروری کو اسلام آباد میں منعقدہ میڈیا اور تنازعات سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں اپنی ریسرچ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر کرادیلی نے کہا کہ داعش بہت اَپ ڈیٹ ہے اور انکا میڈیا اسٹرکچر بہت زبردست ہے۔

ابو ابراہیم کے زیرِ قیادت گروپ کے پاس میڈیا کےلیے ایک جامع حکمت عملی ہے جس کا ثبوت اس کا انٹرنیٹ میگزین، ویب سائٹ اور سیل فون ایپلی کیشن ہے۔

جبکہ دوسری طرف القاعدہ اپنے پیغام کو عام کرنے کےلیے روایتی طریقوں پر قائم ہے، جیسا کہ جہادی فورم اور ویب سائٹ کا استعمال کرنا۔

داعش دیگر گروپس سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ یہ ٹویٹر، فیس بک، انسٹاگرام اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال کرتی ہے جس کی پہنچ کم عمر افراد تک ہے۔

داعش کی جانب سے لوگوں کو جہاد پر آمادہ کرنے کیلئے آن لائن میڈیا حکمت عملی کے تحت خواتین (دلہنوں) کا استعمال ایک واضح مثال ہے۔ یہ خواتین صرف مردوں کو ہی نہیں بلکہ دیگر نوجوان خواتین کو بھی ساتھ دینے کیلئے کہتی ہیں، یہ خود کو بہنیں کہلواتی ہیں۔

القاعدہ کے برعکس جس کا بنیادی نشانہ امریکا تھا، داعش نے شام میں بشار الاسد کی حکومت اور عراق میں حیدالعبادی کی حکومتوں کو نشانہ بنایا۔

ڈاکٹر کرادیلی نے افسوس کا اظہار کیا کہ 2016 میں جب ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے دابق نامی علاقے پر دوبارہ قبضہ کیا تو عالمی طاقتوں نے داعش پر جوابی حملہ کرنے کا موقع گنوایا۔

اس واقعے کے بعد داعش نے اپنے آن لائن میگزین کا نام دابق سے بدل کر رومیاہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے تھا تاکہ داعش کو نیست و نابود کر دیا جاتا۔ رومیاہ میگزین انگریزی، فرانسیسی، جرمن، روسی، انڈونیشی اور ایغور زبان میں شائع کیا جاتا ہے۔

لیکچرار ڈاکٹر کرادیلی نے اس بات پر روز دیا کہ داعش کو اسکے نظریے سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ دابق میں شکست کے بعد بھی انکا نظریہ مٹی میں مل گیا تھا۔

ڈاکٹر کرادیلی کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے داعش کے پیروکاروں کو بےنقاب کرنا چاہیئے تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube