Sunday, July 12, 2020  | 20 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > پاکستان

بلوچستان کے معدنیات کیلئے پالیسی بنائی ہے، جام کمال

SAMAA | - Posted: Feb 21, 2020 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 21, 2020 | Last Updated: 5 months ago

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا کہنا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تناظر میں معدنی وسائل کی تلاش وترقی کے کیلئے صوبائی اختیارات کو بروئے کار لاکر بلوچستان کی منرل پالیسی متعارف کرائی ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے معدنی ترقی و مارکیٹنگ شہزاد سید قاسم سے کوئٹہ میں ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے جام کمال خان نے کہا کہ معدنیات کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے حصول کے لئے جامع پالیسی بھی مرتب کی گئی ہے۔ ہم اپنے معدنی وسائل کو ترقی دے کر انہیں بلوچستان اور یہاں کے عوام کی فلاح وبہبود اور خوشحالی کے لئے بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں معدنیات کے شعبہ کی ترقی کے لئے خطیر فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ معدنی وسائل کے حامل علاقوں کی معلومات پر مشتمل جیو ڈیٹا سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے اور معدنی ذخائر پر عائد رائیلٹی اور ریونیو میں اضافے کے لئے اقدامات بھی کئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ریکوڈک سے متعلق وزیراعظم کے بیان پر بلوچستان ناراض

واضح رہے کہ 12 فروری کو اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ ریکوڈک کے سونے سے غیر ملکی قرضے اتاریں گے۔ جس پر بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

نینشل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے مگر ہم اس لیے چیخ رہے ہیں کہ 1952 میں بلوچستان سے گیس نکلی، اور جس ڈیرہ بگٹی اور سوئی نے پورے ملک کو گیس دی، وہاں آج بھی ہماری عورتیں لکڑیاں جمع کرکے آگ جلاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح سیندک پراجیکٹ بیس پچیس سال قبل چین کو دیا گیا۔ اس کا صرف دو فیصد بلوچستان کو مل رہا ہے۔ آج بھی سیندک کے لوگوں کے پاﺅں میں جوتے نہیں۔ سب کہتے ہیں گوادر سی پیک کا جھومر ہے، مگر 57 ارب ڈالر میں سے بلوچستان اور نہ ہی گوادر کو کچھ ملا۔ بلوچستان 2200 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے مگر 570 یونٹ بجلی کے لیے ترستا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے 13 فروری کو سوئی ٹاﺅن واٹر سپلائی اسکیم کی بنیاد رکھنے کے موقع پر ان محرومیوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 1954 سے پورے ملک کو گیس فراہم کرنے والا سوئی ٹاﺅن 2020 میں بھی گیس، بجلی، پانی جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔

جام کمال نے کہا کہ چوںکہ سوئی پلانٹ کی لیز کی مدت ختم ہوچکی ہے۔ اب وہ اس حوالے سے تمام معاملات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے لیز میں توسیع نہیں کریں گے۔ وفاقی حکومت سے اس بارے میں تین نشستیں ہوچکی ہیں۔ لیز میں ڈیرہ بگٹی اور بلوچستان کے عوام کے مفاد کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ لیز میں توسیع اس وقت کریں گے جب بلوچستان کے جائز حصے کو تسلیم کیا جائے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube