Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

ملا منصور کی کراچی میں جائیداد نیلام ہوگی

SAMAA | - Posted: Feb 20, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 20, 2020 | Last Updated: 2 years ago

افغان طالبان کے مقتول سربراہ ملا اختر منصور کی کراچی میں موجود جائیداد نیلام کرنے کی تیاری ہوگئی ہے جس کی کل مالیت 10 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ملا منصور کی جائیداد کی نیلامی کیلئے اخبارات میں اشتہار جاری کیا ہے۔ جائیداد میں گلشن معمار میں ایک پلاٹ، ایک گھر، ایک فلیٹ، شہید ملت روڑ پر عمار ٹاور میں ایک فلیٹ، گلزار ہجری کے بسم اللہ ٹاور میں ایک فلیٹ اور شہید ملت روڈ کے سمیہ ٹاور میں ایک فلیٹ شامل ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے ملا منصور سمیت کراچی میں ان کے دو مبینہ فرنٹ مینوں پر دہشت گردوں کیلئے فنڈنگ کا مقدمہ درج کیا تھا مگر ملا منصور 2016 میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے جس کے باعث مقدمے کی فائل سرد خانے کی نذر ہوگئی۔

اس فائل کو گزشتہ برس اس وقت جھاڑ کر آگے بڑھایا گیا جب دہشت گردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ روکنے کے عالمی ادارہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان پر دباؤ بڑھا دیا۔

ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق ملا اختر منصور نے یہ جائیداد سرمایہ کاری کے طور پر فرضی ناموں سے یا کراچی میں اپنے دو فرنٹ مینوں کے نام خریدی تھی۔

ملا منصور کی ہلاکت کے بعد جائے وقوع سے ایک پاکستانی شناخی کارڈ اور پاسپورٹ برآمد ہوا تھا جو ’محمد ولی‘ کے نام سے تھے۔ بعد ازاں وزارت داخلہ نے ملا منصور کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے میں کردار ادا کرنے والے دو ماتحت ملازمین کو برطرف کردیا تھا۔

کچھ عرصہ بعد ملا منصور کی ایک اور شناخت سامنے آئی جس میں وہ گل محمد کے نام سے رئیل اسٹیٹ کی خردیداری اور بینکاری کی سہولیات کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔

ان کی تمام شناختی دستاویزات میں اصلی تصاویر چسپاں تھیں مگر تصاویر مختلف عمر اور مختلف حلیے میں بنائی گئیں۔ بعض تصاویر بھی سر پر روایتی افغان شملہ، بعض میں جالی والی ٹوپی اور دیگر میں بلوچستان کے پشتون علاقوں رائج سندھ ٹوپی جیسی کیپ پہنی ہوئی ہے۔ تصاویر میں ان کے ماتھے پر شکنیں اور محراب واضح نظر آتے ہیں۔

The advertisement placed in Dawn on Feb 14, 2020. Taken from the epaper edition. https://epaper.dawn.com/?page=14_02_2020_007

تفتیشی حکام کے مطابق ملا منصور کراچی میں رئیل اسٹیٹ ایجنٹ سے ملاقاتیں بھی کرتا رہا۔ ایک اسٹیٹ ایجنٹ نے تفتیشی حکام کو بتایا کہ محمد ولی نامی شخص سے متعدد مرتبہ ملا ہوں۔ وہ بال بچے دار آدمی نظر آتے تھے جو اپنے بچوں کی بہتر مستقبل کیلئے جدوجہد میں مصروف تھے۔

رئیل اسٹیٹ ایجنٹ نے بتایا ’محمد ولی‘ متعدد مرتبہ میرے کے ساتھ پراپرٹی دیکھنے گئے اور اپنی پراپرٹی مجھے فروخت بھی کی مگر میں کبھی اس کی فیملی سے نہیں ملا۔

ایجنٹ نے یہ بھی بتایا کہ ’محمد ولی‘ کے ساتھ دو بندے اکثر آیا کرتے تھے اور دونوں ان کی غیر موجودگی میں کاروبار سنبھالتے بھی تھے۔

تحقیقات کے دوران ان دو افراد کی شناخت عمار یاسر اور اختر محمد کے نام سے ہوئی۔ انہوں نے ملا منصور کے سرمایہ سے دو جائیدایں خریدیں۔ حکام کے مطابق یہ دونوں طالبان کے مرکزی عہدیدار ہیں اور کراچی میں ملا منصور کے فرنٹ مین کے طور پر کام کرتے تھے۔ ڈرون حملے میں ملا منصور کی ہلاکت کے بعد دونوں ان کی بیوہ اور بچوں کے ہمراہ افغانستان فرار ہوگئے۔

ایک سارکاری افسر نے نام ظاپر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عمار یاسر بعد میں امریکا اور افغان حکومت سے مذاکرات کرنے والے افغان طالبان کے وفد میں بھی شامل رہے جبکہ عمار یاسر کے والد ملا عمر کے دور میں طالبان کی مرکزی شوریٰ کے رکن رہے ہیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملا منصور کراچی کے طارق روڈ پر رہائش پذیر تھے اور نواحی علاقوں میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی مگر یہ ان کی واحد سرمایہ کاری نہیں تھی۔ تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ انہوں نے لائف انشورنس پالیسی میں بھی سرمایہ کاری کی اور اس کیلئے 3 لاکھ 33 ہزار روپے ادا کرچکے تھے۔ انشورنس پالیسی ان کے فرضی نام گل محمد کے نام پر ہے اور اس میں وارث کے طور پر حفصہ بیگم کا نام لکھا ہوا ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ ملا منصور نے پراپرٹی میں سرمایہ کاری اس لیے کی کہ وہ فیملی سمیت یہاں سیٹل ہوکر کراچی کو اپنا ہیڈکوارٹر بنانا چاہتے تھے اور ان فلیٹوں کو نئی بھرتے ہوئے جنگجوؤں کیلئے سیف ہاؤس کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔

ملا منصور طالبان کے گڑھ قندہار کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے روس کے خلاف ’افغان جہاد‘ میں حصہ لیا اور طالبان کے دور اقتدار میں کمانڈر بن گئے۔ اس دوران وہ وزیر ایوی ایشن اور سیاحت سمیت مختلف عہدوں پر تعینات رہے۔

نائل الیون کے بعد 2001 میں امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو ملا منصور کوئٹہ منتقل ہوگئے اور 2010 میں ملا عبدالغنی اخوند کی گرفتاری کے بعد افغان طالبان کے امیر منتخب ہوئے اور 2016 میں امریکی ڈرون کا نشانہ بنے۔

ملا عبدالغنی اخوند کو 2010 میں پاکستانی کے حساس اداروں نے گرفتار کیا اور 2018 میں امریکا کے کہنے پر رہا کردیا۔

نوٹ: یہ اسٹوری انگلش سے ترجمہ کئی گئی۔ انگلش میں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube