ہوم   > پاکستان

چئیرمین پی آئی اےایک عہدےکاانتخاب کریں،سپریم کورٹ

SAMAA | - Posted: Feb 20, 2020 | Last Updated: 3 months ago
Posted: Feb 20, 2020 | Last Updated: 3 months ago

ادارے کوایساسربراہ چاہیےجوعالمی معیارکی ایئرلائن بنائے۔

سپريم کورٹ نے قومی ائيرلائنز کے سربراہ سے حتمی جواب مانگ ليا،ارشد ملک ایئرفورس يا پی آئی اے میں سے ایک کا انتخاب کریں۔ سپریم کورٹ نے قرار ديا کہ ادارے کو ایسا سربراہ چاہیے جو اسے عالمی معیار کی ایئرلائن بنائے۔ عدالت نے طیارہ گمشدگی سے متعلق رپورٹ بھی مسترد کردی اور ريمارکس ديئے کہ پی آئی اے نے ایک طیارہ بھگا دیا،باقی 3 کہاں فروخت ہوئے کچھ معلوم نہیں۔

جمعرات کو پی آئی اے کے سربراہ کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے قومی ائيرلائن کے سربراہ کے 2عہدوں پر شديد تحفظات کا اظہار کیا اورارشد ملک کو ایئرفورس یا پی آئی اے میں سے صرف ايک عہدہ رکھنے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے قرار ديا کہ پی آئی اے کو ایسا سربراہ چاہیے جو اس کوعالمی معیارکی ایئرلائن بنائے،عوام کو مناسب کرائے میں بہترین سفری سہولت دے،عدالت نےعارضی تعيناتياں حکومت کی غيرسنجيدگی قرار دے دیں اور کہا کہ سرکاری اداروں کو مستقل سربراہ درکار ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے طیارہ گمشدگی سے متعلق پی آئی اے کی رپورٹ مسترد کردی۔ چيف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے والے صرف کاغذی کارروائی کرکے آتے ہیں، افسران طیارے اپنے ذاتی استعمال میں لاتے رہے،ایک سابق وزیراعظم کے علاج کے لیے قومی ائیرلائن کا طیارہ ساتھ لے گئے،علاج مکمل ہونے تک طیارہ لندن ائیرپورٹ پر کھڑا رہا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ پی آئی اے کا طیارہ فروخت کرنے کا فیصلہ کب اور کہاں ہوا؟ پی آئی اے کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے بتايا کہ مالٹا میں فلم شوٹنگ کے بعد طیارہ جرمنی گیا، طیارے کی فروخت کا فیصلہ پی آئی اے بورڈ کا نہیں تھا۔

چيف جسٹس نے ريمارکس ديئے کہ فلم بنانے والی کمپنی کا اسرائیلی ہونا سنجیدہ بات ہے، پی آئی اے کے لوگو کیساتھ کیا معلوم کونسی فلم شوٹ ہوئی ہوگی،بقیہ 3  طیارے کہاں فروخت ہوئے کچھ معلوم نہیں۔ ۔عدالت نے نیب کو تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube