ہوم   > پاکستان

کیماڑی: زہریلی گیس سے ہلاکتیں 14 ہوگئیں، وزارت صحت

SAMAA | and - Posted: Feb 18, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA | and
Posted: Feb 18, 2020 | Last Updated: 1 month ago

فوٹو : اے ایف پی

کراچی کے علاقے کیماڑی میں زہریلی گیس پھیلنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی، صوبائی حکومت نے تصدیق کردی۔ تحقیقاتی ادارے مہلک گیس کے اخراج کا اصل مقام تلاش کررہے ہیں۔

کراچی کے علاقے کیماڑی میں زہریلی گیس سے شہریوں کے متاثر ہونے کا آغاز اتوار کو ہوا تھا، یہ شہر کا تجارتی اور رہائشی علاقہ ہے۔ وزارت صحت سندھ کے ترجمان ظفر مہدی نے تصدیق کی ہے کہ مہلک گیس سے جاں بحق افراد کی تعداد 14 تک پہنچ گئی، جو مختلف اسپتالوں میں زیر علاج تھے۔

ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر ایجنسی کو بتایا کہ 250 افراد کو علاج کیلئے اسپتال لایا گیا، جنہوں نے سانس لینے میں تکلیف اور آنکھیں جلنے کی شکایت کی۔

مزید جانیے : کیماڑی پراسرار گیس: پی ایس او کے اسٹوریج ٹرمینل بند

جناح اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس 35 افراد علاج کیلئے لائے گئے، زیارہ تر مریض کو سانس لینے میں دشواری اور  دم گھٹنے کی شکایت تھی۔

انتظامیہ نے ابتدائی تحقیقات میں پورٹ سے گیس کے اخراج کا شبہ ظاہر کیا تاہم کراچی پورٹ ٹرسٹ نے اس کی تردید کردی۔

کے پی ٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ مہلک گیس سے تمام ہلاکتیں پورٹ کی حدود سے باہر ہوئیں۔

مزید جانیے : کیماڑی کی فضاء میں زہریلی گیسوں کی مقدارحدسے بڑھ گئی،رپورٹ 

سندھ حکومت نے پاک بحریہ کے کیمیکل اور بایولوجیکل ڈپارٹمنٹ سے مدد طلب کرلی۔ صوبائی وزیر اطلاعات ناصر شاہ کا کہنا ہے کہ گیس کے اخراج کے اصل مقام اور وجوہات سے متعلق تحقیقات میں تھوڑا وقت اور لگے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ادارے کام کررہے ہیں اور جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے بتایا کہ یہ ایک علاقے تک محدود واقعہ ہے، خوش قسمتی سے یہ دوسرے علاقوں میں نہیں پھیل رہا، میڈیا سے گزارش ہے کہ افراتفری کا باعث بننے والی جھوٹی افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ کیماڑی سے لوگوں کا انخلاء نہیں کیا جائے گا، انخلاء کا فیصلہ انتہائی ضرورت پڑنے پر کیا جائے گا۔

دوسری جانب منگل کو کیماڑی اور مضافاتی علاقے کے مکینوں نے گیس کے اخراج اور شہریوں کے متاثر ہونے پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پراسرار گیس پھیلنے کے عوامل جاننے اور وزیر پورٹ اینڈ شپنگ علی زيدی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں : کیماڑی میں گیس سےمتاثرہ افراد کااحتجاج،سڑک بلاک

کیماڑی میں گیس سے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی ادارے اور کاروبار بھی بند ہے، شہریوں کے معمولات بری طرح متاثر ہیں۔

پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ايس او) نے بھی زہریلی گیس پھیلنے کے بعد عملے کی حفاظت کے پیش نظر اپنے اسٹوریج ٹرمینل عارضی طور پر بند کر دیے، ٹرمینل اے، بی اور سی سے ترسیل بند کردی گئی، گزشتہ روز 2 ملازمین بے ہوش ہوگئے تھے، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

پی ایس او کا کہنا ہے کہ ٹرمین کی بندش سے آئل کی ترسیل متاثر نہیں ہوگی۔

مزید جانیے : کیماڑی میں رات کوپھیلنےوالی گیس کااثرپورےدن رہتاہے،علاقہ مکین

سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے منظورہ شدہ لیبارٹریز میں شامل گلوبل انوائرنمنٹل لیب نے کیماڑی کی فضاء میں آج (منگل 18 فروری) دوپہر 12 بجے آلودگی کی پیمائش کی رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق وہاں سلفر ڈائی آکسائیڈ اور ہائیڈروجن سلفائیڈ کی مقدار مقررہ حد سے کہیں زیادہ پائی گئی ہیں۔

کراچی کے علاقے کیماڑی میں اتوار کی شام سے پھیلنے والی مشبتہ زہریلی گیس سے اب تک 14 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ 500 سے زائد افراد متاثر ہوئے، 100 سے زائد افراد اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ گیس سے متاثرہ افراد کو سانس لینے میں دشواری، پیٹ میں درد اور الٹی سمیت دیگر شکایات تھیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
KARACHI, KEAMARI, GAS, CM, SINDH, KPT, ALI ZAIDI, PTI, PPP
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube