ہوم   > پاکستان

پاکستان سے نئے سوشل میڈیا قوانین واپس لینے کا مطالبہ

SAMAA | - Posted: Feb 16, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 16, 2020 | Last Updated: 2 months ago

دی ایشیا انٹرنیٹ کولیشن (اے آئی سی) نے وزیراعظم عمران خان سے چند روز قبل سوشل میڈیا سے متعلق منظور کئے گئے نئے قوانین واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

ایشیا میں انٹرنیٹ پالیسی سے متعلق آگاہی اور حل فراہم کرنیوالے ادارے اے آئی سی نے وزیراعظم عمران خان کو ایک خط میں سوشل میڈیا سے متعلق نئے قوانین پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

فرم کا کہنا ہے کہ اگر ان قوانین کو ختم نہ کیا گیا تو یہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی نمو کو شدید متاثر کریں گے۔

نئے آن لائن قوانین کے تحت تمام سوشل میڈیا کمپنیز بشمول یوٹیوب، فیس بک، ٹویٹر اور ٹک ٹاک کو اپنے دفاتر پاکستان میں کھولنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نئے قوانین کے مطابق پاکستانی حکام کسی بھی ایسے شخص جو قومی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کرے یا متنازع مواد شائع کرے، اس کیخلاف ایکشن لے سکیں گے، اس کے علاوہ سوشل میڈیا کمپنیز اس بات کی پابند ہوں گی کہ وہ پاکستانی حکام کے کہنے پر کسی بھی قسم کا متنازع مواد 24 گھنٹوں کے اندر اپنی ویب سائٹس سے ہٹادیں۔

اے آئی سی کا مزید کہنا ہے کہ نئے قوانین پاکستان کو تنہا کردیں گے اور اس سے پاکستانی صارفین انٹرنیٹ معیشت کے فوائد سے بھی محروم رہیں گے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئے قوانین غیر واضح ہیں جو کہ اشارہ کرتے ہیں اس حوالے سے عوامی رائے کو مد نظر نہیں رکھا گیا، یہی وجہ ہے کہ پاکستان سوشل میڈیا کمپنیز سے انسانی حقوق سے متعلق آزادی اظہار رائے اور پرائیویسی اصول سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کرتا نظر آتا ہے۔

ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کے ڈائریکٹر جیف پین نے پاکستان سے گزارش کی ہے کہ وہ ان قوانین کے نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پر نظر ثانی کرے تاکہ پاکستان کی معیشت پر کوئی منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان ہمیں مستقبل قریب میں اپنے تفصیلی رائے سے آگاہ کرنے کا موقع دیگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
PAKISTAN, SOCIAL MEDIA, AIC, YOUTUBE, FACEBOOK, TIKTOK, NEW LAW,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube