ہوم   > پاکستان

تعلیمی اداروں میں تشدد:اسلام آبادہائیکورٹ کاتحریری حکمنامہ جاری

SAMAA | - Posted: Feb 15, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Feb 15, 2020 | Last Updated: 1 month ago

تعلیمی اداروں میں تشدد کیخلاف شہزاد رائے کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے۔

ہفتے کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے تعلیمی اداروں میں تشدد کیخلاف شہزاد رائے کی درخواست پر جمعرات کو سنائے گئے فیصلے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری حکم جاری کیا۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو پرائیویٹ اسکولزریگولیٹری اتھارٹی کو تشدد روکنے کی ہدایات جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت قانون و انصاف،سیکرٹری انسانی حقوق سےبھی جواب طلب کرلیا گیا ہے۔

اس کےعلاوہ تعلیمی اداروں میں تشدد روکنے کے لئے ڈائریکٹر جنرل ایجوکیشن کو خصوصی ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں کہ وفاقی تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد پر پابندی یقینی بنائیں، وفاق کے تعلیمی اداروں میں جسمانی سزاؤں کے حوالے سے شکایات کا ازالہ کریں۔ عدالتی فیصلے میں درج ہے کہ تعلیمی اداروں میں سزا کی شکایات موصول کرنے کے لئے لائحہ عمل بنایا جائے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت بچوں کو حاصل حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔عدالت نے کہا ہے کہ سیکرٹری انسانی حقوق یواین کنونشن کے تحت بچوں کو حاصل حقوق کے قانون پر عمل درآمد رپورٹ جمع کرائیں۔

عدالت نے ہدایت کی ہے کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان آئندہ سماعت پر عدالتی معاونت کریں،انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد بھی درخواست میں جواب جمع کرائیں۔ عدالت نے مزید ہدایت کی ہے رجسٹرارآفس کیس 5 مارچ کو سماعت کے لیے مقرر کرے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد پر پابندی عائد کی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں شہزاد رائے کی جانب سے دائردرخواست پر کیس کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ شہزاد رائے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سال بھی لاہور میں تشدد سے طالبعلم جاں بحق ہوا، شہزاد رائے نے تعلیم میں ریفارمز کے لئے فاؤنڈیشن بنائی، بچوں پر تشدد کا خاتمہ سب کے مفاد کا معاملہ ہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دئیے کہ اس معاملے پر اسمبلی نے کوئی قرارداد بھی منظورکی تھی۔شہزاد رائے کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جب تک قانون سازی ہو نہیں جاتی تشدد کو تو روکا جائے، بچوں کی ذہنی اورجسمانی صحت تشدد سے بری طرح متاثرہوتی ہے، بچوں پر تشدد سے معاشرے میں تشدد بڑھتا ہے۔ شہزاد رائے کے وکیل نے مزید بتایا کہ پینل کوڈ کی سیکشن 89 میں بچوں پرتشدد کی گنجائش بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے وفاقی اداروں میں بچوں پر تشدد کی قانونی گنجائش کو تاحکم ثانی معطل کردیا ۔عدالت نے شہزاد رائے کی درخواست پر حکومت سے پانچ مارچ تک جواب بھی طلب کرلیا ہے۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ وزارت داخلہ فوری طور پر تعلیمی اداروں میں بچوں کے حقوق یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرے۔

گزشتہ روز گلوکارشہزاد رائے نے بچوں پر تشدد رکوانے کے  لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ تعلیمی اداروں اور جیلوں میں بچوں کا تحفظ  یقینی بنانے کیلئے حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا بھی کی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تعلیمی اداروں میں طلباء کو سزا دینا معمول بن چکا ہے، بچوں کے حقوق کےحوالے سے پاکستان 182 ممالک کی فہرست میں 154 نمبر پر ہے،اسپارک رپورٹ کے مطابق سالانہ 35 ہزار بچے سزا کی وجہ سے اسکول چھوڑ رہے ہیں،اسکولوں، جیل اور بحالی مراکز میں بچوں کی جسمانی سزا پر پابندی کیلئے حکومت کو ہدایت کی جائے۔

درخواست میں وزارت داخلہ، قانون، تعلیم اور وزارت انسانی حقوق کے ساتھ آئی جی اسلام آباد کوبھی فریق بنایا گیا ۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube