ہوم   > پاکستان

اسحاق ڈارکی رہائشگاہ میں قائم پناہ گاہ ختم کردی گئی

SAMAA | - Posted: Feb 12, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 12, 2020 | Last Updated: 2 months ago

تصویر: اے ایف پی

پنجاب حکومت نے سابق وزير خزانہ اسحاق ڈار کی رہائش گاہ ميں قائم پناہ گاہ کو ختم کر ديا۔

لاہور کے علاقے گلبرگ ميں 4 کنال 17 مرلے کے گھر ميں بنائی گئی پناہ گاہ کا بورڈ بھي ہٹا ديا گيا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اسحاق ڈار کے گھر کے سامنے پارک ميں کنٹينرزلگاکر عارضی پناہ گاہ قائم کي جا رہی ہے۔

پیر 10 فروری کولاہور ہائيکورٹ نے اسحاق ڈار کی رہائشگاہ ميں پناہ گاہ قائم کرنے کیخلاف ان کی اہلیہ تبسم ڈارکی جانب سے دائر کردہ درخواست پر حکم امتناع جاری کیا تھا۔

تبسم ڈار کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت پنجاب نے اسحاق ڈار کے گھر کو غیر قانونی طور پر پناہ گاہ میں تبدیل کیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے رہائش گاہ کی نیلامی کیخلاف حکم امتناع جاری کررکھا ہے، اس لیے پنجاب حکومت کا اقدام خلاف آئین اور خلاف قانون ہے۔ حکومت مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے،عدالت حکومت پنجاب کا اقدام کو کالعدم قرار دے۔

واضح رہے کہ 8 فروری کو روز قبل پنجاب حکومت نے اسحاق ڈارکے لاہورمیں واقع گھر کو نادار افراد کےلیے پناہ گاہ میں تبدیل کردیا تھا۔

نیب نے احتساب عدالت سے استدعا کی تھی کہ اسحاق ڈار مفرور ہیں۔ ان کی پاکستان میں موجود تمام جائیداد فروخت کرنے کی اجازت دی جائے مگر عدالت نے نیلامی کی اجازت نہیں دی جس کے بعد پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ سامنے آیا۔

اس فیصلے کے بعد  سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ویڈیو بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب حکومت نے میری رہائشگاہ کو پناہ گاہ قرار دےکر توہین عدالت کی۔ یہ اقدام اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کےخلاف ہے جس پرعدالت سے رجوع کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت 28 جنوری کو میری رہاشگاہ کو نیلام کرنا چاہتی تھی لیکن 27 جنوری کو عدالت نے نیلامی سے روک دیا۔ نیب کی جانب سے مجھے مفرور قرار دیا جانے کا فیصلہ بھی غلط ہے۔ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے کا الزام درست نہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube