ہوم   > پاکستان

دہشتگردی کیخلاف ایڈورٹائزنگ ٹیکنالوجی کے استعمال کا مشورہ

SAMAA | - Posted: Feb 11, 2020 | Last Updated: 1 week ago
SAMAA |
Posted: Feb 11, 2020 | Last Updated: 1 week ago

Ross Frenett, the director of Moonshot CVE, UK. Photo: SAMAA Digital’s Rahim Sajwani

ہمیں اس بات کا تو شدت سے احساس ہے کہ انتہا پسند تنظیمیں اپنے مقاصد کیلئے انٹرنیٹ کا بھرپور استعمال کرتی ہیں مگر اس طرف توجہ نہیں دیتے کہ ہم لوگوں کو انتہاپسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کیلئے انٹرنیٹ کو کس طرح استعمال کرسکتے ہیں۔ ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں ہمارے پاس کون سے ہتھیار ہیں۔

برطانیہ میں انتہا پسندی کی روک تھام کیلئے کام کرنے والے ادارہ Moonshot CVE کے ڈائریکٹر روز فرینٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لوگ اس پر غور کریں کہ کس طرح دہشت گرد تنظیمیں انٹرنیٹ کے ذریعے اپنا پیغام پھیلاتے ہیں اور ان لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں جن میں انتہا پسندی کی جانب رجحان پایا جاتا ہے۔

روز فرینٹ نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں دوسرے ’انٹرنیشنل کانفرنس آن میڈیا ایکنڈ کانفلکٹس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا اہتمام وفاقی وزرات اطلاعات و نشریات کے ذیلی ادارے پاکستان پیس کلیکٹو نے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ سے قبل اگر ہمیں کہیں انتہاپسند مواد پر مبنی پمفلٹ نظر آتا تو ہم یہ جاننے سے قاصر ہوتے تھے کہ اب تک کتنے لوگوں نے اس کو پڑھا ہے مگر اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لوگ نشانیاں چھوڑ جاتے ہیں۔ یعنی آپ یہ جان سکتے ہیں کون کہاں سے انٹرنیٹ پر انتہا پسندی پر مبنی مواد تلاش کرتا ہے۔

روز فرینٹ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کیلئے ایڈورٹائزنگ ٹیکنالوجی استعمال کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ انٹرنیٹ پر کسی چیز پر کلک کرتے ہیں تو پھر جب بھی آپ آن لائن آتے ہیں، تو اس سے ملتے جلتے اشتہارات آپ کے سامنے آجاتے ہیں۔ اگر آپ نے جوتے سے متعلق کچھ سرچ کیا تو پھر آپ کو جوتے کے اشتہارات ہی نظر آئیں گے۔ جو ٹیکنالوجی آپ کو ہر بار جوتے دکھاتی ہے، وہی ٹیکنالوجی آپ کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کیلئے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ یوں آپ اسی ایڈورٹائزنگ ٹیکنالوجی کا استعمال تو کرتے ہیں مگر جوتے بیچنے کے بجائے امن بیچ کیلئے۔

اس طرح جب ایک شخص آن لائن انتہا پسندی پر مبنی مواد تلاش کرتا ہے تو ان کو ایسا مواد بھی مل جاتا ہے جو انتہا پسندی کو بے نقاب کرکے اس کا متبادل بیانیہ پیش کرتا ہے۔ مون شاٹ نے گوگل کے پروجیکٹ Jigsaw کے ساتھ ملکر 2016 میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا۔ اس کو سادہ الفاظ میں یوں سمجھایا جاسکتا ہے کہ اگر ایک فرد انٹرنیٹ پر یہ سرچ کرے کہ داعش بم کیسے بناتی ہے یا سفید فام انگریزوں کی انتہا پسند تنظیم میں شمولیت کیسے کی جاسکتی ہے تو یہ ٹیکنالوجی انہیں اپنے مطلوبہ مواد کے بجائے اس لنک پر ’ری ڈائریکٹ‘ کرتی ہے جہاں دہشت گرد تنظیموں کی اندر کی زندگی کے بارے میں کہانیاں موجود ہوتی ہیں۔

اس ٹیکنالوجی نے 4 سال میں لاکھوں افراد کو ’ری ڈائریکٹ‘ کیا اور دوسری جانب سوشل ورکرز کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا تاکہ جن لوگوں میں انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے کا خدشہ ہے، انہیں مثبت کاموں میں مصروف کیا جائے۔

روز فرینٹ نے کہا کہ ہمیں دہشت گردوں کا ہتھیار ان کے خلاف استعمال کرنا چاہئے۔ وہ انٹرنیٹ پر نوجوانوں سے بات چیت کرتے ہیں۔ ان کے خیالات معلوم کرنے کے بعد ان کو بھرتی کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم بھی ایسے نوجوانوں سے بات چیت کرکے ان کا ذہن تبدیل کرسکتے ہیں۔ ہم ان کے انسانی حقوق کا خیال رکھتے ہوئے ان کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روک سکتے ہیں اور ان کی بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں تاکہ وہ ایسا قدم ہی نہ اٹھائے جس کا انجام اچھا نہیں ہے۔

روز فرینٹ نے بتایا کہ اس کو ’ری ڈائریکٹ میتھڈ‘ کہا جاتا ہے۔ لوگ تلاش کچھ اور کرتے ہیں اور کچھ اور مل جاتا ہے۔ آپ یہاں سے شروع کرتے ہوئے ان کو مثبت اور بہتر مواد فراہم کرسکتے ہیں۔

انتہاپسندی کے خلاف کام کرنے والے لوگ، ادارے یا حکومتیں طویل عرصے سے اس جدوجہد میں مصروف ہیں کہ انٹرنیٹ پر کس طرح اتنا موثر کردار ادا کریں جتنا انتہا پسند تنظیمیں کرتی ہیں۔ اس کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دہشت گرد زیادہ جدت پسند ہیں اور اپنا پیغام پہنچانے کیلئے نت نئے راستے تلاش کرتے ہیں اور یہی ہمیشہ سے مسئلہ رہا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو اپنے مقاصد کیلئے زیادہ موثر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔

روز فرینٹ نے وضاحت کی کہ انارکسٹ اور جہادی بے شک انٹرنیٹ سے پہلے بھی موجود تھے مگر اب فرق یہ ہے کہ ’زن بیزاری اور محرومی‘ سے جنم لینی والی دہشت گردی بالکل نئی چیز ہے اور یہ دنیا بھر کیلئے خطرہ بن کر ابھری ہے۔ پچھلے چند برس میں دنیا بھر کے ’نیو نازی‘ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے ہیں اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن گئے ہیں۔ اس کے ساتھ بدھ مت میں بھی انتہا پسندی پھیلتی دیکھی جاسکتی ہے۔

انتہا پسند تنظیمیں فیس بک، ٹوئٹر اورفیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتی ہیں۔ دوسرہ جانب دنیا بھر میں ان کو سوشل میڈیا سے نکال باہر پھینکنے اور سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی کاوشیں بھی جاری ہیں۔ اس کا مطلب یہ کہ دہشت گرد تنظیموں پر بھی متبادل راستے ڈھونڈنے کیلئے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ جب داعش کو ٹیلی گرام سے بلاک کیا گیا تو وہ دوسرے پلیٹ فارمز پر منتقل ہوگئی۔ اس لیے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ جدت پسند ہیں یا نئی راہیں تلاش کرنے والے ہیں مگر ہم ان کو ’جنیئس‘ بھی نہیں مان سکتے۔ داعش نے اسنیپ جیٹ بھی استعمال کرنے کی کوشش کی مگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

دہشت گرد گروہوں میں ٹیلی گرام مقبول ہے کیوں کہ اس ایپ کے براڈ کاسٹ میکنزم کے ذریعے زیادہ لوگوں تک بآسانی رسائی مل سکتی ہے۔ مثال کے طور پر واٹس ایپ پر گروپ یا براڈ کاسٹ لسٹ میں صرف 256 افراد کو ایڈ کیا جاسکتا ہے مگر ٹیلی گرام میں یہ سہولت غیر محدود ہے۔ آپ جنتے چاہیں لوگوں کو ایڈ کرسکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ٹیلی گرام کی پرائیویسی پالیسی بھی زیادہ سخت ہے۔ یعنی کسی بھی ادارے یا حکومت کیلئے یہ آسان نہیں کہ کسی ٹیلی گرام صارف کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکے۔

بعض حکومتوں کا خیال ہے کہ انتہا پسندی روکنے کیلئے انٹرنیٹ بند کردی جائے۔ یا اس کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں یا پھر بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بلاک کیے جائیں مگر انٹرنیٹ کو ریگولیٹ تقریباً ناممکن ہے۔ دہشت گرد گروہ اپنا پیغام پھیلانے کیلئے پھر بھی نت نئے راستے ڈھونڈ لیں گے۔

حکومت جب انتہا پسندی سے نمٹنے کی کوشش کرتی ہے تو بعض اوقات نیک نیتی کے باجود ان کے اقدامات اخلاقی طور پر مشکوک بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر حکومت خودکش حملوں کو روکنا چاہتی ہے جو کہ نیک نیتی پر مبنی اقدام ہے اور اس کے لیے حکومت ایک ایسا منصوبہ بناتی ہے جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہو تو فائدے سے زیادہ نقصان ہوجاتا ہے۔

یہاں حکومت کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا مگر یہ طریقہ غلط ہے کیوں کہ اس طرح مسلمانوں کو ہی خودکش بمبار بنا کر پیش کیا جاتا ہے جس سے نفرت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے انتہا پسندی سے نمٹنے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ سارے مسلمانوں پر نہیں بلکہ ان لوگوں پر توجہ مرکوز کی جائے جو انتہا پسندی پر مبنی مواد تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں۔

سیشن میں شریک ایک شخص نے سوال کیا کہ لفظ ’جہادی‘ کے استعمال کے پیچھے کیا وجہ یا دانش مندی کارفرما ہے۔ اس کے جواب میں روز فرینٹ نے تسلیم کیا کہ کسی ایک خاص موضوع پر بات کرتے ہوئے بعض اوقات الفاظ کا انتخاب مشکل ہوجاتا ہے۔

روز فرینٹ نے کہا کہ مجھے زبان کی اہمیت کا احساس ہے کیوں کہ میں  شورش کے وقت آئرلینڈ میں ایک آئرش کیتھولک کے طور پر پلا بڑھا۔ ایک بندہ کسی ایک فریق کیلئے حریت پسند ہے اور دوسرے فریق کیلئے وہی فریق علیحدگی پسند کہلاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم مذہبی انتہا پسندی کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ یہ ایک ایسی اصطلاح ہے کہ جس کے ذریعے مختلف انتہا پسند گروہوں کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جیسے بدھسٹ انتہاپسند، مسلم انتہا پسند اور عیسائی انتہا پسند الگ الگ مذاہب کے انتہا پسند گروہ ہیں۔

روز فرینٹ نے بتایا کہ اس قسم کے لوگوں سے طویل بات چیت کے بعد میں ایک اصطلاح تک پہنچا ہوں جو ’سلفی جہادی‘ ہے مگر یہ بھی مکمل طور پر موزوں اصطلاح نہیں ہے۔

اس اسٹوری کا انگلش ورژن پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube