Friday, September 25, 2020  | 6 Safar, 1442
ہوم   > پاکستان

اسلام آبادلال مسجد میں مولاناعبدالعزیز زبردستی داخل،پولیس کامحاصرہ

SAMAA | - Posted: Feb 8, 2020 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 8, 2020 | Last Updated: 8 months ago

فوٹو: 8 فروری 2020

اسلام آباد کی لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز 13 برس بعد حکومت کی مرضی کے خلاف مسجد میں دوبارہ داخل ہوگئے جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسجد کا محاصرہ کرلیا۔

یاد رہے کہ 4 جولائی 2007 کو اسلام آباد کے سیکٹر 6 میں واقع لال مسجد کے خلاف ریاستی کارروائی کے دوران مولانا عبدالعزیز برقع پہن کر مسجد سے فرار ہونے کی ایک ناکام کوشش کے بعد پکڑ لئے گئے تھے۔

کارروائی حکومت کے مطابق مسجد کے منتظمین کی شدت پسندانہ سوچ اور اقدامات کے نتیجے میں کی گئی تھی جس کے دوران متعدد طلبہ و طالبات سمیت دیگر جاں بحق اور زخمی ہوگئے تھے جن میں مولانا کے چھوٹے بھائی مولانا عبدالرشید بھی شامل تھے۔ مولانا عبدالعزیز کو سپریم کورٹ کے حکم پر اپریل 2009 میں رہا کر دیا گیا تھا تاہم ان پر لال مسجد میں داخلے پر پابندی تھی۔

لال مسجد شہداء فاؤنڈیشن کےترجمان حافظ احتشام احمد جو ماضی میں مولانا کے ایک قریبی ساتھی تھے نے ہفتے کے روز بتایا کہ پابندی کے باوجود مولانا عبدالعزیز گزشتہ 2 ہفتے قبل مسجد میں داخل ہوگئے تھے تاہم انہیں خبردار کر دیا گیا تھا کہ ان کی یہاں موجودگی صورتحال کو کشیدہ کرسکتی ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ پولیس نے مسجد کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور غیر متعلقہ افراد کو اندر داخل نہیں ہونے دیا جارہا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مولانا عبدالعزیز کے بھتیجے اور مولانا عبدالرشید کے بیٹے ہارون رشید صورتحال مزید خراب کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لال مسجدآپریشن سے پہلے حامد میر اور مشرف کی ملاقات میں کیا ہوا

اسلام آباد کے ایک سیکیورٹی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے مولاناعبدالعزیز اور ان کی اہلیہ سے مذاکرات شروع کئے لیکن جمعہ کو اُمِ حسان کی جانب سے مبینہ شر انگیز خطاب کے بعد یہ مذاکرات روک دئیے گئے۔

مولانا کے قریبی ذرائع کے مطابق مولانا جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے پلاٹ چاہتے ہیں۔ اسلام آباد انتظامیہ نے 2012 میں انھیں اور ان کی اہلیہ اُمِ حسان کو سیکٹر ایچ 11 میں 20 کنال کا ایک پلاٹ دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے اس پلاٹ کی الاٹمنٹ پچھلے برس منسوخ کردی تھی۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق مولانا عبدالعزیز چاہتے ہیں کہ ان کو دوبارہ نماز پڑھانے کیے اجازت دی جائی اور 25 کروڑ روپے بھی دئیے جائیں۔ انھوں نے ڈان کو بتایا کہ انتظامیہ نے ایچ 11 میں جامعہ حفصہ خالی کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہے، بصورت دیگر دوبارہ آپریشن کیا جائے گا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ خوراک کی فراہمی روک دی گئی ہے تاہم انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی مذہب کی خاطر ثابت قدم رہیں گے۔

سن 2007 میں لال مسجد کی انظامیہ کے خلاف سیکورٹی اداروں کی کارروائی سے 6 ماہ قبل یہ مسجد اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی جب اس کے مدرسے کے طلباء نے اسلام آباد میں واقع میوزک شاپس اور مبینہ سیکس ورکرز کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube