ہوم   > پاکستان

سندھ پولیس میں کرپشن ہمیشہ کامسئلہ ہے، سابق سینئر افسران

SAMAA | - Posted: Feb 1, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 1, 2020 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو : سماء ڈیجیٹل

سندھ پولیس کے سابق سینئر افسران کا کہنا ہے کہ ماضی اور حال کی سندھ پولیس میں کرپشن اور فنڈز کی کمی بڑے مسائل ہیں، امیر اور غریب کیلئے پولیس کے کردار میں ہمیشہ سے تفریق رہی ہے۔

کراچی آرٹس کونسل میں 3 روزہ ادب فیسٹیول جاری ہے جس میں ’’سندھ پولیس کی تاریخ‘‘ کے موضوع پر ایک سیشن ہوا، اس موقع پر سابق افسران سعود احمد مرزا اور آفتاب نبی نے سندھ پولیس کے قیام اور کردار پر روشنی ڈالی جبکہ نظامت کے فرائض عمر شاہد حامد نے انجام دیئے۔

سابق آئی جی سندھ آفتاب نبی کا کہنا تھا کہ برطانوی راج کے دوران سندھ پولیس میں فوج سے افسران تعینات کئے جاتے تھے، مظاہروں اور فسادات پر قابو پانے کیلئے ڈیڈلی اسکواڈ کا استعمال کیا جاتا تھا، 1930 کی دہائی میں ہونیوالے فسادات پر قابو پانے کیلئے پولیس کی براہ راست فائرنگ سے 29 افراد ہلاک ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ برطانوی راج کے دوران پولیس کا نظام کمزور اور سندھ کے وڈیرے زیادہ طاقتور تھے، فیصلے ان کی اوطاقوں میں ہوتے تھے، بہت کم لوگ عدالتوں کا رخ کرتے تھے۔

آفتاب نبی نے مزید کہا کہ پولیس میں اس دور میں بھی کرپشن اور نااہلی عروج پر تھی، فنڈز کی کمی کا بھی سامنا تھا، پولیس کی نگرانی میں سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے جاتے تھے، 1939ء 1945ء تک سندھ پولیس فورس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات بھی کیں گئیں۔

سعود مرزا نے بتایا کہ برطانوی راج کے دوران بنائی گئی سندھ پولیس فورس چوتھی فورس تھی جبکہ اسے رائل آئرش کانسٹیبلری کی طرز پر اس ریجن میں پہلی ماڈرن پولیس فورس کہا جاتا تھا۔

اختیارات اور طاقت کے ٹکراؤں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانوی افسر نیپیئر کا نظریہ تھا کہ پولیس کو اس کے اپنے افسران کے تحت چلایا جائے، جس کیلئے صوبے کو کراچی، حیدرآباد اور شکار پور ڈویژن میں تقسیم کیا گیا، جو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے تحت کام کرتے تھے، شکارپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی جانب سے 3 فوجی اہلکاروں کی گرفتاری پر ایک تنازع کھڑا ہوا، فوج کے اعلیٰ افسران نے معاملہ پہلے کمشنر آف سندھ کے سامنے اٹھایا جو بڑھتے بڑھتے وائسرائے تک پہنچ گیا۔

وفاق اور صوبے کے درمیان آئی جی کی تعیناتی کے تنازع  کے سوال پر سیشن کے ناظم عمر شاہد حامد نے کہا کہ سندھ پولیس سے اختیارات چھیننے کی جنگ کا سلسلہ بڑا پرانا ہے۔

سعود مرزا کا تنازع کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پولیس آرڈر 2002ء میں آئی جیز کی مدت ملازمت کا تعین موجود ہے، اس کے تحت کسی بھی آئی جی کو 3 سال سے قبل تبدیل نہیں کیا جاسکتا، اگر تبدیل کیا جائے تو اس کیلئے بھی کافی تفصیلی طریقہ کار دیا گیا ہے۔

آفتاب نبی نے بھی تنازع کو عمومی تاریخ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ ہندوستان سے اختیارات کا تنازع چلتا آرہا ہے، قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں بھی کئی ترامیم کی گئیں تاہم ان پر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آیا، اگر پولیس سسٹم میں ترامیم کی جاتیں تو یہ لوگوں کیلئے کافی سود مند ثابت ہوتا۔

ایک سوال پرانی اور موجودہ پولیس میں کیا چیزیں مشترک ہیں؟، پر جواب دیتے ہوئے آفتاب نبی نے سندھ پولیس میں ملٹرائزیشن، کرپشن اور خواص و عوام کیلئے الگ کردار کو پرانی اور نئی سندھ پولیس کی یکسانیت قرار دیا۔

سعود مرزا کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ برٹش دور کی پولیس کے افسران اپنے علاقوں میں بہت زیادہ لوگوں سے تعلق رکھتے تھے، ان سے ملاقاتیں اور علاقوں کا دورہ  کرتے رہتے تھے تاہم آج پولیس میں یہ سب دیکھنے میں نہیں آتا، شاید اس کی وجہ سے لوگوں کا پولیس سے تعلق کم ہوگیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
SINDH POLICE, HISTORY, BRITISH RULE, EAST INDIA COMPANY, BOMBAY POLICE, PPP, PTI, IG KALEEM IMAM,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube