ہوم   > پاکستان

سوات میں کرونا وائرس کی خبر جھوٹ ہے

SAMAA | - Posted: Jan 31, 2020 | Last Updated: 4 months ago
Posted: Jan 31, 2020 | Last Updated: 4 months ago

سوشل میڈیا پر ضلع سوات میں کرونا وائرس سے متعلق افواہیں زیرگردش ہیں جس نے عوام کو سخت تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ دوسری جانب سوات کی ضلعی انتظامیہ اور ڈاکٹروں نے افواہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ مریض کو ’وائرل فلو‘ ہے، کرونا وائرس نہیں۔

ضلع سوات کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی جانب سے 31 جنوری کو ایک نوٹی فکیشن جاری ہوا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق ’کرونا وائرس کے مشتبہ کیس‘ کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر واصل خان، ڈاکٹر مومن خان، ڈاکٹر محمد خان، ڈاکٹر عبدالاحد، ڈاکٹر رحمت علی، ڈاکٹر محمد رحمان اور ڈاکٹر روشان علی نے شرکت کی۔ ڈی ایچ او نے ڈاکٹروں کو کیس رپورٹنگ اور پپلک ہیلتھ پروٹول کے بارے میں بریفنگ دی اور مریض کی دیکھ بھال کرنے والے اسٹاف کو ’حفاظتی کٹ‘ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں کرونا وائرس کے پیش نظر اسپتال میں 10 بیڈز پر مشتمل الگ خصوصی وارڈ قائم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی وارڈ کیلئے عملہ بھی متعین کردیا گیا اور مشتبہ مریض کی کلینکل رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی۔

یہ نوٹی فکیشن چند لمحوں میں سوشل میڈیا پر پہنچتے ہی وائرل ہوگیا جس کے باعث عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور بعض ٹی وی چینلز نے اس کو خبر بناکر نشر کردیا جس نے صورت حال مزید گھمبیر بنادی۔

سماء ڈیجیٹل نے اس کی تصدیق کرنے کیلئے اجلاس میں شریک ڈاکٹر محمد رحمان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ مذکورہ مریض ان کے ساتھی ڈاکٹر مومن خان کے پاس آیا تھا۔ اس کو بخار اور نزلہ زکام کی شکایت تھی۔ ڈاکٹر مومن نے اس کو ادویات دیں مگر اس کا اثر نہیں ہوا۔ جس پر ڈاکٹر مومن کو کرونا وائرس کا شک ہوا۔

ڈاکٹر محمد رحمان نے کہا کہ مریض کو ’وائرل فلو‘ ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔ کرونا وائرس کی افواہیں جھوٹ پر مبنی ہیں۔ جب نوٹی فکیشن کا حوالہ دیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں بھی ’مشتبہ‘ لکھا ہے۔ تصدیق نہیں کی گئی اور نوٹی فکیشن محض ڈاکٹروں کو الرٹ رہنے کیلئے جاری کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر مومن خان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ مریض کو محض شک کی بنیاد پر داخل کیا تھا۔ اس کی بیرون ملک ٹریول ہسٹری نہیں ہے۔ اس نے آخری سفر چند روز قبل لاہور کا کیا جبکہ مریض کا تعلق منگورہ شہر کے علاقہ اوڈیگرام سے ہے۔

سوات کے ڈپٹی کمشنر ثاقب رضا نے کہا ہے کہ کچھ عرصہ قبل چین کے شہری سوات آتے جاتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے تمام اسپتالوں کو ہدایت کی کہ وہ زیادہ محتاط ہوجائیں اور کسی بھی مریض پر ذرا بھی شک گزرے تو اس کی پوری تحقیقات کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ مریض کا نام محمد یاسر ہے جس کی عمر 26 سال ہے۔ اس کو وائرل فلو ہے جس پر عام ادویات اثر نہیں کر رہی ہے۔ اس لیے ڈاکٹروں نے اس کو داخل کردیا ہے۔

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا کرونا وائرس اب تک 200 لوگوں کی جانیں لے چکا ہے جبکہ 7 ہزار سے زائد افراد اس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے مزید خطرات کے پیش نظر پوری دنیا میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube