ہوم   > پاکستان

اسد قیصر پر سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے اغوا کا الزام

SAMAA | - Posted: Jan 29, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Jan 29, 2020 | Last Updated: 2 months ago

مبینہ ایف آئی اے اہلکار پکڑا گیا

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر پر ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے اغوا کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مقامی افراد نے ایک اغوا کار کو پکڑ لیا جو اپنے آپ کو ایف آئی اے کا اہلکار بتا رہا ہے۔ پولیس نے واقعہ کی تصدیق کردی۔

سماء ڈیجیٹل کو مقامی ذرائع نے بتایا کہ صوابی کے علاقہ امبار کا رہائشی کامران نامی نوجوان سوشل میڈیا پر اسد قیصر سمیت تحریک انصاف کی پالیسیوں اور فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بناتا تھا۔ جس پر انہیں پہلے بھی دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوتی رہیں اور گزشتہ روز صوابی موٹر وے انٹرچینج کے قریب ایک گاڑی میں چند افراد آئے اور کامران کو اغوا کرکے لے جانے لگے۔

اس دوران آس پاس موجود مقامی افراد نے اغوا کاروں سے ہاتھاپائی شروع کردی۔ ان میں سے ایک بندے کو چلتی ہوئی گاڑی سے کھینچ کر پکڑ لیا جبکہ باقی افراد کامران کو اغوا کرکے فرار ہوگئے۔

مقامی افراد نے جب پکڑے گئے اغواکار سے پوچھ گچھ کی تو اس نے بتایا کہ وہ ایف آئی اے کا اہلکار ہے اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ کامران کو اغوا کرنے کا ٹاسک قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے دیا تھا۔

تھانہ چھوٹا لاہور کے پولیس اسٹیشن نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگوں نے ایک اغوا کار کو پکڑلیا تھا مگر پولیس اس کے بارے میں مزید کچھ نہیں جانتی۔

تھانے کے محرر لیاقت نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ واقعہ کے بعد مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے 3 سے 4 گھنٹے روڈ بند رکھا اور رات گئے جب مغوی نوجوان کامران واپس آیا تو احتجاج ختم کردیا گیا۔

پولیس کے مطابق مغوی نوجوان بھی گھر آگیا ہے اور مقامی لوگوں نے مبینہ ایف آئی اے اہلکار کو چھوڑ دیا ہے جبکہ پولیس کو اس بارے میں کسی نے بھی ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست نہیں دی۔

گزشتہ شام ایس ایچ او تھانہ چھوٹا لاہور نے سماء ٹی وی کے نمائندہ امجد خان کو بتایا تھا کہ واقعہ ’غلط فہمی‘ کا نتیجہ تھا۔ جب سماء ٹی وی کا نمائندہ امبار میں واقع کامران کے گھر پہنچا تو اس کے والد نے کہا کہ میرا بیٹا واپس آگیا ہے، اب ہم قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔

کامران کے والد ممتاز خان سابق پولیس افسر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں موقع پر موجود نہیں تھا مگر جو لوگ ہاتھاپائی کے دوران موجود تھے اور جن لوگوں نے ایک اغوا کار کو پکڑا، انہوں نے کہا کہ پکڑے گئے ’ایف آئی اے‘ اہلکار نے اقرار کیا کہ اسد قیصر نے کامران کو اغوا کرنے کا حکم دیا تھا۔

مقامی لوگوں نے مبینہ ایف آئی اے اہلکار کی ویڈیو بھی بنائی ہے جس میں وہ کیمرے سے منہ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے اردگرد کافی لوگ بیٹھے ہیں اور وہ پشتو میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے ہیں۔

ایف آئی اے پشاور نے واقعہ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کا کوئی اہلکار اس کارروائی میں ملوث نہیں ہے۔

اسد قیصر سے متعدد مرتبہ ان کا موقف جاننے کیلئے رابطے کی کوشش کی گئی مگر تاحال کوئی جواب موصول نہ ہوسکا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube