Saturday, August 8, 2020  | 17 Zilhaj, 1441
ہوم   > پاکستان

صحافی اظہار الحق کی درخواست ضمانت پھر خارج

SAMAA | - Posted: Jan 29, 2020 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 29, 2020 | Last Updated: 6 months ago

حکومت اور پرویز مشرف پر تنقید کے الزام میں گرفتار صحافی اظہار الحق کی درخواست ضمانت سیشن عدالت سے بهی خارج کر دی گئی۔

بدھ 29 جنوری کو صحافی اظہار الحق کی طرف سے میاں داؤد ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ایڈیشنل سیشن جج مصباح خان نے نوجوان صحافی اظہار الحق کی درخواست ضمانت خارج کی۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ میاں داؤد نے دلائل میں کہا کہ مجسٹریٹ عدالت نے حقائق دیکهے بغیر ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کی ہے۔ صرف ایف آئی اے کی تفتیش کو تسلیم کرنا فیئر ٹرائل کیخلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 8 اور 9 بهی بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ قانون کے تحت 10 سال سے کم سزا کی دفعات میں ماتحت عدالتیں ضمانت دینے کی پابند ہیں۔

صحافی اظہارالحق کا 3روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

ایڈووکیٹ میاں داؤد نے کہا کہ نوجوان صحافی کو صرف اس لیے ٹارگٹ کر کے گرفتار کیا گیا تاکہ میڈیا میں مزید خوف پیدا کیا جا سکے، کیا وزراء یا چند افراد پر تنقید کسی بهی ادارے کیخلاف تنقید ہو سکتی ہے؟ صحافی اظہار الحق کے فیس بک پیج سے سینکڑوں غریب افراد کے مسائل کےلیے بهی آواز اٹهائی جا رہی تهی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ صحافی کیخلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کی دفعہ 11 اور 20 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505 بهی شامل کی گئی ہے۔ ایف آئی اے بے بنیاد الزام لگا کر صحافی اظہار الحق کو گرفتار کیا جبکہ جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا وہ الزامات مقدمے کا حصہ ہی نہیں ہے۔

ایڈووکیٹ میاں داؤد نے استدعا کی کہ آئین پاکستان میڈیا کی آزادی کی گارنٹی دیتا ہے، لہٰذا صحافی اظہار الحق کی ضمانت منظور کی جائے۔

ایف آئی اے کے وکیل نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے دانستہ طور پر ریاستی اداروں اور حکومتی شخصیات کےخلاف مواد اپ لوڈ کیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
Journalist Izhar Ul Haq, bail appeal, reject, FIA, cyber crime, Pervez Musharraf
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube