افغانستان سے2مارٹرگولےپاکستان میں داغےگئے،ترجمان

SAMAA | - Posted: Jan 29, 2020 | Last Updated: 1 year ago
Posted: Jan 29, 2020 | Last Updated: 1 year ago
فائل فوٹو

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے سرحد پار حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغانستان کی جانب سے ملکی سرحدی حدود میں 2 مارٹر گولے فائر کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ منظور پشتین کی گرفتاری کے بعد افغانستان کی جانب سے مسلسل ردعمل سامنے آرہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بدھ کی صبح افغانستان سے 2 مارٹر گولے پاکستانی سرحدی حدود میں فائر کیے گئے۔ مارٹر گولوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ترجمان کے مطابق افغانستان کی جانب سے سرحدی حملے کے معاملے کو افغان حکام کے ساتھ اٹھایا جارہا ہے۔ حملے کے بعد طورخم گیٹ کو سیکیورٹی مقاصد کے پیش نظر بند کیا گیا۔ بات چیت اور معاملہ حل ہونے کے بعد طور خم بارڈ گیٹ کو جلد کھول دیا جائے گا۔

سینیر تجزیہ کار اور سماءاسلام آباد کے بیورو چیف خالد عظیم کا کہنا ہے کہ یہ حملہ پی ٹی ایم رہنما مننطور پشتین کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا تسلسل ہے۔

افغان صدر کا پاکستان مخالف بیان

واضح رہے کہ منظور پشتین کی گرفتار کے بعد افغان صدر کی جانب سے بھی پاکستان مخالف بیان دیا گیا تھا، جب کہ دارالحکومت کابل میں منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف ریلی نکالی گئی، جس میں پاکستانی حکومت کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

افغان صدر کے بیان پر پاکستان کی جانب سے تشویش کا اظہار اور اسے اندرونی معاملے میں مداخلت قرار دیا گیا تھا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان صدر اشرف غنی کے ٹویٹ کو تشویش کے ساتھ ہم نے نوٹ کیا ہے جو پاکستان کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے بیانات دونوں ممالک کے درمیان ہمسائیگی کے اچھے تعلقات کے فروغ میں مدد گار نہیں۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان داخلی معاملات میں چھیڑچھاڑ کے بغیر اور عدم مداخلت کے اصولوں کی بنیاد پر افغانستان کے ساتھ خوشگوار اور قریبی تعلقات کا خواہاں ہے اور افغانستان پر زور دیتا ہے کہ افغانستان اور خطے میں امن واستحکام کے مشترک مقصد کے لئے مل کر کام کرے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 18 جنوری کو پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں منظور پشتین کی جانب سے ایک تقریب میں خطاب کیا گیا تھا۔

منظور پشتین کے خلاف تھانہ ڈی آئی خان میں درج ایف آئی آر میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تقریب میں منظور نے لوگوں کو حکومت وقت کے خلاف بغداد پر اکسایا۔ منظور نے پاکستانی آئین کو ماننے سے انکار کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube