Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

ایک واقعہ کیسے گھوٹکی کے بچوں پر اثر انداز ہوا

SAMAA | and - Posted: Jan 29, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA | and
Posted: Jan 29, 2020 | Last Updated: 2 years ago

سندھ کے ضلع گھوٹکی میں واقع سندھ پبلک اسکول کے دورازوں کے اوپر دیوار پر موٹیویشنل (حوصلہ افزا ) جملے درج ہیں۔ ایک دیوار کے اوپر لکھا ہے ’’بھوک میں سب کچھ اچھا لگتا ہے‘‘ یہاں ایک طالب علم نے دوران کلاس الٹی کردی۔ خاتون کلاس ٹیچر نے پوچھا، الٹی کس نے کی ہے۔ اس کلاس میں سارے بچے سات سال سے کم عمر کے ہیں۔ ان میں سے ایک بچے نے جواب دیا۔ ’’ہندو لڑکے نے الٹی کی ہے‘‘۔

کمسن طالب علم کے ان الفاظ نے زخم تازہ کردیا کیوں کہ 14 ستمبر سے پہلے طالب علم اس طرح بات نہیں کرتے تھے۔ اس دن جو کچھ ہوا، اس بارے میں اسکول کا اسٹاف بھی انگشت بدانداں ہے۔

چند ماہ گزرنے کے بعد یہ بات تو واضح ہوچکی کہ اس واقعہ نے بچوں کو جو سبق سکھایا، وہ ان کو بالکل نہیں سیکھنا چاہیے تھا۔ چھوٹے بچے کے منہ سے مذہب کا حوالہ سن کر ٹیچر کانپ اٹھی تھی۔

سندھ پبلک اسکول اپنی عمارت کے مقابلے میں بہت بڑا نام ہے اور یہ نام اس نے اپنی کارکردگی سے بنایا ہے۔ اس کو ضلع گھوٹکی کا سب سے بہترین پرائیویٹ اسکول سمجھا جاتا ہے۔ جس میں نرسری سے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں سے ہر سال درجن بھر اسٹوڈنٹس میڈیکل کالجز میں چلے جاتے ہیں۔

گھوٹکی کے عوام بھی اس بات کو سراہتے ہیں کہ سندھ پبلک اسکول میں میرٹ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسکول میں 1400 طلبہ پڑھتے ہیں جن میں 60 فیصد ہندو بچے شامل ہیں۔ لیکن گھوٹکی میں رہنے والے کسی بھی شخص کیلئے یہ انوکھی بات نہیں ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس اسکول کی طرح ضلع گھوٹکی شہر ہندو مسلم کے پُرامن بقائے باہمی کیلئے مثال بنا رہا۔

اسکول کے استاد زاہدعلی نے اس بقائے باہمی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس یہاں سے دو لڑکیاں انٹر کرکے چلی گئیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتی تھیں۔ ہمیشہ ایک لنچ باکس سے کھانا کھاتی اور کلاس میں بھی ساتھ ہی بیٹھا کرتی تھیں۔ اسکول کے اسٹاف کو یقین تھا کہ یہ دونوں بہنیں یا کزن ہیں۔

زاہد علی کے مطابق مگر جب وہ لڑکیاں انٹر پاس کرنے کے بعد چلی گئیں تو انکشاف ہوا کہ ان دونوں کا آپس میں کسی قسم کا رشتہ نہیں تھا۔ یہاں تک کہ دونوں کا مذہب بھی مختلف تھا۔

اسکول ٹیچر کے مطابق 14 ستمبر کو ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔

گزشتہ برس 14 ستمبر کو ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں انٹرمیڈیٹ کے ایک طالب علم نے دعویٰ کیا کہ سندھ پبلک اسکول کے مالک نوتن لال نے گستاخی کا ارتکاب کیا ہے۔

اسکول کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ نوتن لال اسکول کا مالک ہے مگر وہ خود گورنمنٹ ڈگری کالج گھوٹکی میں فزکس پڑھاتے ہیں اور اس دن انہوں نے محض اسکول کا چکر لگایا تھا۔ نوتن لال کے 2 چھوٹے بچے اسی اسکول میں زیر تعلیم جبکہ 2 بڑے بچے کراچی میں پڑھتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نوجوان اور اس کے والد کے گرد صحافی کھڑے ہیں۔ ان صحافیوں میں سے ایک نے نوجوان کے الزامات پر مبنی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردی جس نے گھوٹکی میں پرتشدد ردعمل جنم دیا۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد جماعت اہل سنت کے رہنما اور ایک مدرسہ کے سربراہ مفتی عبدالکریم سعیدی نے اعلان کیا کہ انہوں نے سندھ پبلک اسکول کے مالک نوتن لال کے خلاف تعزیرات پاکستان کے دفعہ 295 سی کے تحت گستاخی کا مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ دفعہ ایک 295 سی کے تحت جرم ثابت ہونے پر پھانسی اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

پولیس نے مفتی عبدالکریم سعیدی کو یقین دلایا کہ وہ نوتن لال کو اگلے دن ( 15 ستمبر) 5 بجے تک گرفتار کرلیں گے مگر مقدمہ درج ہونے اور پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کی یقین دہانی کے باوجود اسی رات گھوٹکی میں پرتشدد واقعات شروع ہوگئے۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ 15 ستمبر کی صبح ایک ہجوم سندھ پبلک اسکول میں گھس گیا۔ ہجوم میں شامل لوگوں نے توڑ پھوڑ شروع کی اور عمارت کے اندر موجود سامان کو آگ لگادی۔

ایک استاد کا کہنا ہے کہ 15 ستمبر اتوار کا دن تھا مگر چند دن بعد امتحانات شروع ہونے تھے جس کی تیاری کیلئے مرد اساتذہ اسکول آگئے تھے۔ حملے کے دوران اساتذہ جان بچاکر فرار ہوگئے اور اسکول کو 10 دن کیلئے بند کردیا گیا۔

دوسری جانب جیسے ہی یہ خبر شہر میں پھیلی تو نقاب پوش افراد نے سچو سترام دھام مندر پر حملہ کردیا۔ مندر کے اندر گھس کر مورتیوں کو نقصان پہنچایا اور دیوار بھی مسمار کردی۔

مندر کی خدمت پر مامور رضاکار کیلاش کپور اپنے 3 ساتھیوں کے ہمراہ اس وقت مندر میں موجود تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے 50 کے لگ بھگ افراد کو ڈنڈوں اور آہنی سلاخوں کے ہمراہ مندر کی جانب بڑھتے دیکھا۔ ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کریں، آخر ہم مندر کے ایک کونے میں چھپ گئے۔

اس دوران ایک ہجوم نے گھوٹکی میں واقع خواتین کی مارکیٹ پر دھاوا بول دیا۔ دکانوں کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہوئے اور رقم سمیت دیگر سامان لوٹ کر چلے گئے جبکہ ایک اور ہجوم نے نیشنل ہائی وے پر دھرنا دے کر گھوٹکی میں داخل ہونے کا راستہ بند کردیا۔

متاثرہ مندر کے نگران جے کمار نے حملے کو مسلمانوں اور ہندوؤں کو آپس میں لڑانے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر حملہ کرنے والے مسلمان تھے تو دوسری جانب ہماری مدد کیلئے آنے والے بھی مسلمان ہی تھے۔

جے کمار کے مطابق حملے کے بعد تقریبا 500 مسلمان مندر پہنچے اور انہوں نے مندر کی حفاظت کیلئے پوری رات پہرہ دیا۔

دریں اثنا سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام بھی ہندو کمیونٹی کی حمایت میں میدان میں آگئیں۔ جے یو آئی سندھ کے ترجمان محمد سمیع سواتی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ مولانا راشد محمود سومرو واقعہ کے بعد گھوٹکی پہنچے اور ہندوؤں کے ساتھ وقت گزار کر انہیں تحفظ کا احساس دلایا۔

محمد سمیع سواتی کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان نے مساجد میں اعلانات کرکے مسلمانوں پر زور دیا کہ ہندوؤں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے باہر نکلیں اور ان کے مندروں کی حفاظت کریں۔

اس وقت نوتن لال سینٹرل جیل سکھر میں قید ہیں۔ سیشن کورٹ نے 2 سماعتوں کے بعد ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔ اب مقدمہ سندھ ہائیکورٹ جائے گا۔

واقعہ کو 4 ماہ گزر گئے ہیں اور ہندو معمول کی زندگی میں لوٹ چکے ہیں مگر اب وہ پہلے سے زیادہ محتاط ہوگئے ہیں۔

سماجی کارکن عبدالرؤف پارس نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اس واقعہ کے بعد نہ صرف طلبہ اور اساتذہ محتاط ہوگئے ہیں بلکہ معاشرے کے عام افراد بھی مذہب سمیت دیگر متعلقہ موضوعات پر بات کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔

عبدالرؤف پارس کے مطابق پہلے ایسا نہیں تھا۔ ہمارے آباؤاجداد نے ہمیں مذہب، ذات پات اور رنگ و نسل کی بنیاد پر تفریق نہیں سکھائی۔ مگر اب ہم اپنی نئی نسل کو کیا پڑھا رہے ہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس حملے کا مقصد ان کی دکانوں اور جائیدادوں پر قبضہ کرنا تھا۔

سندھ پبلک اسکول 10 دن بعد کھل گیا تو طلبہ کی حاضری کم ہوگئی تھی کیوں کہ والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے ڈرتے تھے۔ اسکول کے ایک ٹیچر نے بتایا کہ ہم آج بھی خوفزدہ ہیں کہیں دوبارہ اس طرح کا حملہ نہ ہوجائے۔ اب بظاہر یہ لگتا ہے کہ اسکول پہلے کی طرح بحال ہوگیا ہے۔ طلبہ آرہے ہیں اور امتحانات بھی جاری ہیں۔

اسکول کی پرنسپل نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ یہاں کے 10 سے 12 بچے ہر سال میڈیکل کالجر میں جاتے ہیں مگر اس سال یہ تعداد کم ہوگئی کیوں کہ حملے کے بعد متعدد طلبہ اسکول چھوڑ گئے۔

سچو سترام دھام مندر میں پہلے ہندو معمول کے مطابق بلا روک ٹوک آتے اور عبادت کرکے چلے جاتے تھے مگر اب یہاں کا منظر بھی تبدیل ہوگیا ہے۔ مقامی صحافی اللہ ورایو بزدار کے مطابق پہلے مندر میں سیکیورٹی کے انتظامات نہیں تھے مگر اب گیٹ پر 3 پولیس اہلکار کھڑے ہیں۔ جو ہر فرد کو تلاشی کے بعد اندر جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ پولیس اہلکار بندوقیں تھام کر تیار بیٹھے ہیں کہ خدانخواستہ دوبارہ ایسا واقعہ نہ ہوجائے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube