ہوم   > پاکستان

سوشل انجینئرنگ کےذریعےہیکنگ عام ہونےلگی

SAMAA | - Posted: Jan 28, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 28, 2020 | Last Updated: 2 months ago

میسجز میں انعام کا جھانسہ دے کر پھنسایا جاتا ہے

صارفین کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا جھانسہ دے کر جرائم کا جال بچھانے والے بہت چالاک ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جرم کی یہ دنیا ٹیکنالوجی کے گھاگ لوگ چلاتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہر کوئی پیسہ بنانا چاہتا ہے۔ جھوٹے پیغامات کے ذریعے لوگوں کو ورغلایا جاتا ہے اور زيادہ تر مسيجز ميں جرائم کا جال بُنا جاتا ہے۔ صارف کے ہوشيار ہونے تک مجرم اپنا کام کرچکے ہوتے ہیں۔

آئی ٹی ماہر ذیشان نقوی نے بتایا کہ صارف کے کلک کرنے پر لنک آ جاتا ہے۔ سوشل انجینئرنگ  ایسی ہیکنگ ہے جس میں صارف کے ذہن سے  کھیلا جاتا ہے۔

پرسنل اکاؤنٹ ہيک ہونے يا سسٹم ميں وائرس داخل ہونے کی وارداتيں معمول ہیں۔ پی ٹی اے کو ہرماہ اوسطاً 2000 کے قریب شکایات موصول ہورہی ہيں۔

کسی معروف شخصيت يا گروپ کے نام سے يا پھر اس کے خلاف جعلی اکاؤنٹ بنا کر سازش گھڑی جاتی ہیں يا افواہيں پھيلائی جاتی ہيں۔

ايف آئی اے تک ڈيڑھ سال ميں ایسی ساڑھے 4ہزار شکايتيں پہنچ چکی ہیں۔ جعلی اکاؤنٹس، جعلی خبروں يا افواہوں کو کنٹرول کرنے کيلئے پی ٹی اے نے ڈھائی کروڑ ڈالر کا فيس آئيڈينٹيفيکيشن سسٹم خريد لیا ہے جس سے سوشل ميڈيا پر آٹوميٹکلی پروفائل ريڈ ہوگی اور کسی اور کے نام پر بننے والا جعلی اکاؤنٹ فورا بلاک ہوجائے گا۔

تاہم پی ٹی اے کواس سسٹم کی 6 ماہ سے سيکيورٹی کلئيرنس ہی نہیں مل سکی ہے کیونکہ اس سے صارفین کی ڈیٹا پرائیویسی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube