ہوم   > پاکستان

پشاور:بھکاریوں کےخلاف قانون سازی،بغیرڈیٹا کےغیرموثر

SAMAA | - Posted: Jan 24, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 24, 2020 | Last Updated: 1 month ago

پولیس بھی ان کےخلاف کاروائی کرسکےگی

پشاور میں صوبائی حکومت نے بھیک مانگے کو جرم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف بل تو منظورکرلیا ہے تاہم شہر بھر میں موجود بھکاریوں کا ڈیٹا حکومت کے پاس موجود نہیں ہے۔

خیبرپختونخوا میں بھیک مانگنا جرم قرار دیا جا چکا ہے۔ کہیں بھی کوئی بھکاری نظرآیا تو  ضلعی انتظامیہ کے ساتھ اب پولیس بھی ان کے خلاف کاروائی کرسکے گی۔ صوبائی حکومت نے قانون سازی تو کرلی مگر انکشاف ہوا ہے کہ حکومت کے پاس بھکاریوں کا ڈیٹا ہی موجود نہیں کہ کس ضلع میں کتنے بھکاری ہیں اور ان کا تعلق کس علاقے سے ہے۔

پشاور میں سندھ ، بلوچستان اور پنجاب کے بھکاری بس اڈوں، چوراہوں ،بازاروں اورشاہراہوں پر بھیک مانگنے میں سرگرم ہے۔

بل میں بچوں اور خواتین سے زبردستی  گداگری کرانے والے شخص کو پانچ لاکھ جرمانہ یا ایک سال قید کی سزا بھی رکھی گئی ہے جبکہ بھیک مانگنے والے افراد کی بحالی اور ان کی تربیت کے لیے دارالکفالہ کے نام سے ادارہ قائم کیا جائے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube