ہوم   > پاکستان

ایدھی ہوم میں مبینہ تشدد سے بچی ہلاک، مقدمہ درج

SAMAA | - Posted: Jan 24, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 24, 2020 | Last Updated: 1 month ago

کراچی کے علاقے کلفٹن ميں قائم ايدھی شیلٹر ہوم پر سوشل ویلفیئرڈپارٹمنٹ اور جوڈیشل مجسٹریٹ نے چھاپہ مار کر سات بچیوں کو تحویل میں لے لیا۔

کارروائی سکینہ نامی لڑکی کی جانب سے شیلٹر ہوم کے برے برتاؤ اور تشدد کی شکایت پر کی گئی۔ سکینہ نے الزام لگایا کہ ٹیچر کے تشدد سے قیصرہ نامی لڑکی بھی ہلاک ہو چکی ہے جس پر سکینہ کی مدعیت میں کلفٹن تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

مجسٹریٹ کے چھاپے کے دوران تمام لڑکیوں سے بیانات لیے گئے۔ ڈیڑھ سو میں سے سات لڑکیوں نے تشدد کیے جانے کی شکایت کی جنہیں مجسٹریٹ اپنے ہمراہ لے گئے۔ ساتوں لڑکیاں سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے حوالے کردی گئی ہیں۔ سکینہ کے بھائی نے سندھ ہائیکورٹ میں حوالگی کا کیس بھی دائر کررکھا تھا۔

دوسری جانب ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ شيلٹر ہوم ميں قتل کی ایف آئی آر بے بنیاد ہے۔ سترہ سالہ قیصرہ کا انتقال بیماری سے ہوا تھا۔ طبی موت تھی، اس لیے ’انتقال‘ کے بارے میں پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ مقدمے کی مدعی سکینہ بچپن سے شیلٹر ہوم میں رہتی آئی ہے۔ سکینہ کے بھائی نے اسے لے جانے کیلئے کیس کر رکھا تھا۔ تشدد اور قتل کی ’کہانیاں‘ اسی کیس کی کڑیاں ہیں۔

فیصل ایدھی نے کہا کہ چھاپے کے وقت شیلٹرہوم میں 150 لڑکیاں موجود تھیں۔ ان میں سے صرف 7 لڑکیوں نے جانا چاہا اور وہ ساتوں لڑکیاں ’آزاد خیال‘ تھیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube