ہوم   > پاکستان

پختونخوا حکومت بھی دو دھڑوں میں تقسیم

SAMAA | and - Posted: Jan 23, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA | and
Posted: Jan 23, 2020 | Last Updated: 4 months ago

پنجاب اور بلوچستان کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی ارکان اسمبلی اور وزرا نے اپنے وزیراعلیٰ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اجتماعی استعفوں کی دھمکی دی ہے۔ محمود خان نے ’سازش‘ کی تصدیق کردی مگر وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے اختلافات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی میں کوئی گروہ بندی نہیں، ایک ’مخصوص ٹولہ‘ منفی باتیں پھیلا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے پانچ وزرا اور 20 اراکین صوبائی اسمبلی نے ایک سنیئر وزیر کی سربراہی میں پارٹی کے اندر اپنا ایک گروپ قائم کرلیا ہے۔ مذکورہ وزیر نے عام انتخابات کے بعد وزارت اعلیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نو منتخب ارکان کا الگ سے اجلاس بھی طلب کیا تھا۔

ناراض وزراء اور اراکین اسمبلی نے محمود خان کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ صوبے میں کرپشن اور کمیشن کی شرح میں اضافہ ہوگیا ہے اور حالات خیبرپختونخوا کی حکومت پنجاب کی حکومت سے بڑھ کر نا اہل ہے۔

گروپ کا کہنا ہے کہ صوبے میں تحریک انصاف کے منشور پر عمل درآمد نہیں ہورہا بلکہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹریز صوبے کے تمام معاملات چلا رہے ہیں جبکہ وزیراعلی کا بھائی بھی حکومتی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پارٹی کے اندر گروہ بندی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مخصوص‘ ٹولہ منفی باتیں پھیلا رہا ہے۔

پشاور ميں ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت يوسفزئی نے کہا کہ يہ سب صوبائی حکومت کو غير مستحکم کرنے کے ليے کيا جارہا ہے۔ کابينہ کا اجلاس پرامن تھا۔ کوئی لڑائی نہيں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے جبکہ وزيراعلیٰ کے پاس اختيار ہے کہ جسے چاہيں کابينہ ميں رکھيں۔

وزیراعلیٰ محمود خان نے اردو روزنامہ جنگ سے بات کرتے ہوئے ’سازش‘ کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو تین وزرا اس سازش کے پیچھے ہیں کیونکہ میں نے ان کے رشتہ داروں اور دوستوں کو صوبائی کابینہ میں شامل نہیں کیا۔ محمود خان نے اپنی ذات اور اپنے بھائی پر لگنے والے تمام الزامات کو بھی مسترد کردیا۔

بھائی کے حکومتی معاملات میں مداخلت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ آبائی علاقے کی مقامی سیاست میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور میں نے اپنے حلقے کی ذمہ داریاں اس کے سپرد کررکھی ہیں۔ صوبے میں کرپشن اور کمیشن کے الزامات بے بنیاد ہیں اگر کسی کے پاس ٹھوس شواہد ہیں تو وہ سامنے لائین۔ وزراء اور بیوروکریٹس کے خلاف کاروائی کروں گا۔ میں بااختیار ہوں اور کوئی میری حکومت میں مداخلت نہیں کررہا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے مجھے وزیراعلی نامز د کیا اور مجھے کسی کو بھی کابینہ میں شامل کرنے یا ہٹانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ کوئی استعفی دینا چاہتا ہے تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا جو وزراء الزامات لگا رہے ہیں ان کی اپنی کارکردگی مایوس کن ہے اورمیں انہیں ہٹانے کا سوچ رہا ہوں۔

نااہل وزراء کو ہٹانے کی بجائے ان کی وزارتیں تبدیل کرنے سے متعلق سوال پر محمود خان نے کہا کہ ان کو ایک موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں بصورت دیگر انہیں وزارتوں سے ہٹا دیا جائے گا۔

روزنامہ جنگ کو ایک وزیر نے بتایا کہ وزیراعلی محمود خان نااہل ہیں۔ حکومت اسلام آباد سے چلائی جارہی ہے۔ سرکاری محکموں میں کرپشن اور کمیشن کی شرح بڑھ کر 20 فیصد سے زائد ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ پنجاب اور بلوچستان میں پہلے ہی ارکان اسمبلی نے الگ گروپس بناکر حکومتوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر عبدالقدرس بزنجو نے گزشتہ روز سماء ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جام کمال خان کو ہٹانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ ایک ماہ کے اندر نیا وزیراعلیٰ لائیں گے۔

WhatsApp FaceBook
PTI

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube