ہوم   > پاکستان

سیکڑوں قیدی علاج کے منتظر، حکومت خاموش

SAMAA | - Posted: Jan 19, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 19, 2020 | Last Updated: 1 month ago

ہزاروں افراد بغیر سزا کے قید

دو نہیں ایک پاکستان کا دعویٰ صرف نعرے تک محدود ہے۔ بڑے سیاسی قیدیوں کی پہلی درخواست پر حکومت نے میڈیکل بورڈ بنائے۔ رپورٹ تیار کی اور عدالتوں میں خودجا کر بتایا قیدی بیمار ہے انہیں جانے دیں۔ لیکن عام قیدیوں کی جان پر بنی رہی اور محکمہ داخلہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ ملک بھر میں 245 قیدی آج بھی علاج کے لئے حکومتی جواب کے منتظر ہیں۔

وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق سندھ اور پنجاب کی جیلوں میں 245 ایسے قیدی موجود ہیں جنہوں نے علاج کے لئے درخواست دائر کی لیکن کوئی جواب نہ آیا۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی 96 جیلوں میں 73 ہزارسے زائد قیدیوں کیلئے صرف 193 میڈیکل آفیسرز اور دو ڈینٹل ڈاکٹرز موجود ہیں۔ جیل اسپتالوں میں الٹراساؤنڈ، آکسیجن سلنڈرز، ای سی جی مشینوں اور لیبارٹریز کی بھی کمی ہے۔

پنجاب کی 10 فیصد جیلوں میں ایمبولینس نام کی کوئی چیز ہی نہیں جبکہ بلوچستان میں چار ایمبولینسز موجود ہیں۔ بروقت طبی سہولت نہ ملنے کے باعث قیدی جسمانی طور پرمعذور ہوجاتے ہیں۔

رپورٹ میں  انکشاف کیا گیا ہے کہ جیلوں میں 65 فیصد سے زیادہ افراد سزا یافتہ ہیں ہی نہیں۔ پنجاب میں 25ہزار، خیبرپختونخوامیں 7ہزار، سندھ میں 11 ہزار جبکہ بلوچستان میں 12 سو سے زیادہ ایسے قیدی ہیں جن پر ابھی کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube